بھارہ کہو مدرسے پر قبضہ کی جنگ ویڈیو وائیرل
اسلام اباد( کرائم رپورٹر ) مدرسہ پر قبضے کا معاملہ تقریباً 75 کنال رقبہ پر مشتمل ایک وسیع دینی تعلیمی ادارہ ہے۔ مدرسہ کے بانی مولانا فیض الرحمٰن مرحوم کے انتقال کے بعد ان کی فیملی تاحال مدرسہ کے اندر رہائش پذیر ہے۔ جبکہ مدرسہ کے انتظامی و تعلیمی امور پر عملی کنٹرول مدرسہ کے اساتذہ کے پاس ہے۔
بانی مدرسہ کی فیملی اور مدرسہ کے اساتذہ کے مابین انتظامی و رہائشی معاملات پر طویل عرصہ سے اختلافات چلے آ رہے ہیں، جو آئے روز لڑائی جھگڑوں کی صورت اختیار کر لیتے ہیں۔
اس سے قبل بھی متعدد مرتبہ اس نوعیت کے واقعات رونما ہو چکے ہیں۔
موجودہ صورتحال میں مدرسہ کے طلباء اساتذہ کے مؤقف کی حمایت کر رہے ہیں۔
اساتذہ کے مطابق آج بوقت 2 بجے رات کے آخری پہر بانی مدرسہ مرحوم کی فیملی کی جانب سے مبینہ طور پر 15 تا 20 افراد کو طلب کر کے مدرسہ بھجوایا گیا، جنہوں نے مدرسہ کے احاطہ میں داخل ہو کر ہراساں کرنے کی غرض سے توڑ پھوڑ کی اور بعد ازاں موقع سے فرار ہو گئے۔
واقعہ کے بعد مدرسہ کے اساتذہ و طلباء شدید غم و غصہ کا اظہار کرتے ہوئے سراپا احتجاج بن گئے اور نعرہ بازی شروع کر دی۔
اطلاع ملتے ہی متعلقہ تھانہ کی پولیس نفری فوری طور پر موقع پر پہنچی، جبکہ ایس پی اور ایس ایچ او بھی موقع پر موجود ہیں۔
امن و امان کی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے پولیس نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے بانی مدرسہ مرحوم کی فیملی کو مدرسہ کے احاطہ سے نکال دیا تاکہ مزید کشیدگی اور ممکنہ تصادم سے بچا جا سکے۔پولیس نے موقع پر پہنچ کر حالات کو کنٹرول کر لیا ہے