نقاب مظلومیت؟؟؟

نقابِ مظلومیت بے نقاب:

بی ایل اے کی خاتون خودکش بمبار دہشت گردی کی اصل ساخت عیاں کر گئی

رانا تصدق حسین

کوئٹہ — حالیہ ناکام بنائے گئے بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کے آپریشن “ہیروف-2” کے دوران ہلاک ہونے والی خاتون خودکش بمبار حاتم ناز سملانی محض کسی نام نہاد مظلوم کا کردار نہیں تھی، بلکہ ایک طویل عرصے سے سرگرم دہشت گرد آپریٹو تھی—یہ حقیقت اب خود بی ایل اے کی جانب سے بھی کھلے عام تسلیم کر لی گئی ہے۔
مصدقہ تفصیلات کے مطابق حاتم ناز نے کم عمری میں کالعدم دہشت گرد تنظیم میں شمولیت اختیار کی اور 2015ء میں باقاعدہ طور پر بی ایل اے کے خودکش ونگ، نام نہاد “مجید بریگیڈ” کا حصہ بنی۔
2016ء میں وہ سیکیورٹی فورسز کے ایک آپریشن کے دوران زخمی بھی ہوئی، جو مجید بریگیڈ کے بانی کمانڈر اسلم اچھو کے خلاف کیا گیا تھا—یہ امر اس کے فعال عملی کردار کی مزید تصدیق کرتا ہے۔
بعد ازاں، مستند خفیہ معلومات کی بنیاد پر پاکستان کی سیکیورٹی فورسز نے حاتم ناز کو گرفتار کر لیا۔
تاہم، اس گرفتاری کو فوری طور پر سیاسی رنگ دے دیا گیا۔
نام نہاد “ویمن کارڈ” کے پردے میں بی وائی سی (BYC) کی جانب سے ایک منظم پروپیگنڈا مہم شروع کی گئی، جس میں گرفتاری کو “بلوچ غیرت اور وقار” پر حملہ قرار دیا گیا۔
سڑکوں پر احتجاج اور دباؤ کے نتیجے میں حکام کو مجبوراً اسے رہا کرنا پڑا۔
رہائی کے بعد حاتم ناز دوبارہ پہاڑوں میں موجود دہشت گرد ٹھکانوں پر جا پہنچی، بی ایل اے کے مسلح نیٹ ورک میں شامل ہوئی اور بالآخر خودکش حملہ کر کے ناکام ہیروف-2 آپریشن کے دوران انجام کو پہنچی۔
قابلِ غور امر یہ ہے کہ اب بی وائی سی خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے، جبکہ خود بی ایل اے نے اعتراف کیا ہے کہ حاتم ناز کئی برسوں سے تنظیم سے وابستہ تھی—یوں پاکستان کے سیکیورٹی اداروں کے مؤقف کی مکمل توثیق ہو گئی ہے۔
یہ واقعہ ایک ناقابلِ تردید حقیقت کو مزید واضح کرتا ہے:
دہشت گردی کا نہ کوئی مذہب ہوتا ہے، نہ قوم، نہ جنس اور نہ عمر۔
دہشت گرد 16 سالہ لڑکا بھی ہو سکتا ہے، 22 سالہ طالب علم بھی، نوجوان عورت بھی اور کوئی معمر فرد بھی۔
دہشت گردی مظلومیت کی شناخت نہیں، بلکہ تشدد پر مبنی ایک نظریہ ہے۔
بلوچ لبریشن آرمی، جسے بین الاقوامی سطح پر کالعدم دہشت گرد تنظیم قرار دیا جا چکا ہے، شہری آبادی، ترقیاتی منصوبوں اور سیکیورٹی اہلکاروں پر حملوں کی ایک طویل اور خون آلود تاریخ رکھتی ہے۔
اس کی سرگرمیوں کے بارے میں یہ حقیقت مستند ذرائع سے ثابت ہے کہ انہیں بھارت کی خفیہ ایجنسی را کی سرپرستی، سہولت کاری اور مالی معاونت حاصل رہی ہے، جبکہ بعض دیگر علاقائی دشمن عناصر بھی پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کے لیے اس میں شریک رہے ہیں۔
تاہم، ایسے تمام عزائم ناکامی سے دوچار ہوں گے۔
جب تک پاکستان فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر (چیف آف ڈیفنس اسٹاف) کی قیادت میں، اور پاکستان ایئر فورس و مسلح افواج کے معرکہ آزمودہ غازیوں کے سائے تلے محفوظ ہے، ریاست کے خلاف ہر سازش نہ صرف ناکام ہوگی بلکہ اپنے ہی سرپرستوں پر الٹ کر کہیں زیادہ شدت سے گرے

اپنا تبصرہ بھیجیں