غریبوں کے پیسے سے سیاسی حج

غریبوں کے پیسے سے مقدس سفر؟

حج، اقتدار اور منافع خوری: جب ریاست حاجی کو ریونیو اسٹریم بنا دے تو ایمان کی حفاظت کون کرے؟

رانا تصدق حسین

اسلام آباد: اگر قومی اسمبلی یا سینیٹ کے اراکین اپنے ماہانہ معاوضے یا ذاتی وسائل سے حج ادا کریں، خواہ باقاعدہ کٹوتی کے ذریعے اور مکمل شفافیت کے ساتھ، تو اس پر عوامی سطح پر شاید ہی کوئی اعتراض ہو۔
اصل غم و غصہ اس تاثر سے جنم لیتا ہے کہ ٹیکس دہندگان، بالخصوص محروم اور کمزور طبقات، امیر اور بااثر افراد کے مذہبی سفر کو سبسڈی دینے پر مجبور کیے جا رہے ہیں۔
یہ احساس اب خود پارلیمانی راہداریوں میں بھی شدت اختیار کر چکا ہے۔
قومی اسمبلی کے ایک ایڈیشنل سیکرٹری نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ اگر قومی اسمبلی اور سینیٹ کے ملازمین کو اندرونی طور پر پیدا کردہ فنڈز یا سی ایس آر طرز کی ویلفیئر اسکیموں کے تحت حج پر بھیجا جائے تو اس پر کسی کو اعتراض نہیں ہوگا، کیونکہ ایسی اسکیمیں اشرافیہ کے بجائے مساوی مواقع کو یقینی بناتی ہیں۔
متعدد سرکاری و خودمختار ادارے پہلے ہی باقاعدہ حج پالیسیاں مرتب کر چکے ہیں، جن میں شفاف معیار، باری کا نظام اور لاگت میں شراکت شامل ہے، تاکہ خانۂ خدا کے سامنے محمود و ایاز ایک ہی صف میں کھڑے ہوں۔
اس کے برعکس پارلیمنٹ سیکریٹریٹ اور انتظامیہ آج تک اراکینِ پارلیمنٹ یا دونوں ایوانوں کے ملازمین کے لیے کوئی جامع، مشاورتی اور واضح حج پالیسی وضع نہیں کر سکے، جس کے باعث ابہام، صوابدید اور ممکنہ بدعنوانی کے دروازے کھلے رہتے ہیں۔
ستم ظریفی یہ ہے کہ دنیا کے کئی غیر مسلم ممالک مذہبی آزادی اور شمولیت کے جذبے کے تحت اپنے مسلم شہریوں کو حج کی ادائیگی میں مالی سہولت فراہم کرتے ہیں۔
جبکہ پاکستان میں وزارتِ مذہبی امور، زکوٰۃ و اقلیتی امور نے ایسا نظام رائج کر رکھا ہے جس کے تحت حج درخواستیں تقریباً ایک سال قبل جمع کی جاتی ہیں، مکمل رقم ایڈوانس میں وصول کی جاتی ہے، اور اربوں روپے نجی بینکوں میں رکھے جاتے ہیں، جہاں سے سود پر مبنی بھاری منافع کمایا جاتا ہے۔
یہ ایک بنیادی آئینی اور دینی سوال کو جنم دیتا ہے:
کیا وفاقی شرعی عدالت نے کبھی اس امر کا جائزہ لیا ہے کہ حج جیسے مقدس فریضے کے لیے جمع کی گئی رقم پر سود کمانا شرعاً جائز ہے یا ناجائز؟
اگر نہیں، تو یہ معاملہ دہائیوں سے عدالتی نگرانی سے باہر کیوں رہا؟
اس سے بھی زیادہ تشویشناک پہلو حج انتظامات کی مسلسل بدانتظامی ہے۔
ہر سال عام حاجی، جو زندگی بھر کی جمع پونجی سے حج کا خواب پورا کرتا ہے، ناقص رہائش، بھیڑ بھاڑ والی ٹرانسپورٹ، کمزور لاجسٹکس اور ناکافی سہولیات کا سامنا کرتا ہے، حالانکہ اس نے بھاری رقوم پہلے ہی ادا کر رکھی ہوتی ہیں۔
اسی دوران وہی سیاسی طبقہ، جس پر نااہلی، ناتجربہ کاری اور مبینہ بدعنوانی کے الزامات لگتے رہتے ہیں، اب ریاستی خرچ پر مقدس مقامات کے سفر کا خواہاں ہے، جس سے عوامی اعتماد مزید مجروح ہو رہا ہے۔
جب قومی خزانہ شدید دباؤ کا شکار ہو، تو ایسے اقدامات نہ صرف بے حسی کی علامت بلکہ اخلاقی طور پر ناقابلِ دفاع محسوس ہوتے ہیں۔
ایسے ماحول میں بہت سے حلقوں کا ماننا ہے کہ پاکستان کی آخری امید اب فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر، نشانِ امتیاز (ملٹری)، چیف آف ڈیفنس اسٹاف، اور ریاستی قانون نافذ کرنے والے اداروں سے وابستہ ہے کہ وہ بروقت اس معاملے کا نوٹس لیں اور اس امر کو یقینی بنائیں کہ عوامی وسائل ارکانِ پارلیمنٹ، صحافیوں یا کسی بھی مراعات یافتہ طبقے کے مفت مذہبی سفر پر ضائع نہ ہوں۔
اصول بالکل واضح اور عالمگیر ہے:
جو بھی حج ادا کرنا چاہے، خواہ وہ کسی بھی عہدے، اثر و رسوخ یا پیشے سے تعلق رکھتا ہو، اسے اپنی جیب سے ادا کرنا چاہیے یا کسی واضح، شفاف، شراکتی اور شرعی اصولوں کے مطابق نظام کے تحت۔
حج اسلام کا رکن ہے، اقتدار کی مراعت نہیں۔
جب تک پاکستان اپنے حج نظام میں اصلاحات نہیں کرتا، منافع خوری کا سدباب نہیں کرتا، اور ایمان کے سامنے مساوات کو یقینی نہیں بناتا، اس نوعیت کی ہر تجویز عبادت کے بجائے ریاکاری اور استحصال ہی سمجھی جاتی رہے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں