پاکستان کا مشہور سنٹورس مال کس کا ؟

سینٹورس تنازعہ شدت اختیار کر گیا:
خاندانی سلطنت، اربوں روپے اور ملکیت کا دھماکہ خیز بحران
رانا تصدق حسین
اسلام آباد — پاکستان کے معروف ترین تجارتی منصوبوں میں شمار ہونے والا سینٹورس مال ایک بار پھر خبروں کی زینت بن گیا ہے- لیکن اس بار اپنی چمک دمک کی وجہ سے نہیں بلکہ باپ، بیٹوں اور اربوں روپے پر مشتمل ایک سنگین ملکیتی تنازعے کی وجہ سے۔
یہ تنازعہ، جو اب قانونی اور کارپوریٹ حلقوں میں شدت اختیار کر چکا ہے، سینٹورس منصوبے کی ملکیت، کنٹرول اور فیصلہ سازی کے اختیارات سے متعلق سنجیدہ سوالات کو جنم دے رہا ہے۔
معاملے کا مرکز ایک خاندانی اختلاف ہے جو اب نجی دائرے سے نکل کر عوامی اور قانونی سطح پر آ چکا ہے۔
دستیاب معلومات، عدالتی دستاویزات، کارپوریٹ ریکارڈز اور جاری کارروائیوں کے مطابق، سینٹورس منصوبے کی ملکیت اور انتظامی اختیارات پر متضاد دعوے سامنے آئے ہیں۔ اس تنازعے میں سردار تنویر الیاس خان اور ان کے صاحبزادے سردار یاسر الیاس خان اور سردار راشد الیاس خان شامل ہیں، جہاں ہر فریق اربوں روپے مالیت کے اثاثوں پر اپنا مؤقف پیش کر رہا ہے۔
کارپوریٹ دنیا کو ہلا دینے والے
بنیادی سوالات
سینٹورس پر اصل کنٹرول کس کا ہے؟
کیا اہم فیصلے تمام شراکت داروں کی رضامندی سے کیے گئے؟
کیا حصص کی منتقلی یا معاہدوں میں شفافیت کا فقدان رہا؟
کیا یہ خاندانی اختلاف اب ایک مکمل کارپوریٹ گورننس بحران میں تبدیل ہو چکا ہے؟
ذرائع کے مطابق یہ تنازعہ اب محض بورڈ روم تک محدود نہیں رہا بلکہ قانونی، ریگولیٹری اور ساکھ کے سنگین مضمرات پیدا کر چکا ہے، جس کے اثرات سرمایہ کاروں، کرایہ داروں، بینکوں اور غیر ملکی سرمایہ کاری تک جا سکتے ہیں۔
صرف خاندانی جھگڑا نہیں
قانونی ماہرین کے مطابق سینٹورس کا معاملہ صرف ایک ذاتی یا خاندانی تنازعہ نہیں۔ منصوبے کی وسعت اور مالی حجم کے باعث اس کا فیصلہ کارپوریٹ شفافیت، شیئر ہولڈرز کے حقوق اور گورننس کے معیارات کے لیے ایک اہم مثال بن سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ابہام، خاموشی یا تاخیر مزید نقصان کا باعث بن سکتی ہے، جبکہ مکمل شفافیت اور قانونی حل ہی واحد قابلِ اعتماد راستہ ہے۔
سٹیٹ ویوز اس حساس معاملے پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے، کیونکہ جب اربوں روپے اور قومی اعتماد داؤ پر لگے ہوں، تو عوام کا یہ حق بنتا ہے کہ وہ جانیں سینٹورس کا اصل مالک کون ہے، اور کس قانونی بنیاد پر؟