ننکانہ ماڈل سٹی کی راہ میں بس اڈے رکاوٹ بن گئے

(ننکانہ صاحب (انویسٹی گیشن رپورٹ) ٹرانسپورٹر مافیا نے ضلع انتظامیہ کی مدد سے اندرون شہر میں بس اڈے قائم کر کے شہریوں کی زندگی اجیرن بنا دی ہے انتظامیہ ایک طرف تو غریب لوگوں کے مال مویشی کو شہر سے باہر منتقل کرنے کے لیے اقدامات کر رہے ہیں تو دوسری طرف پرائیویٹ ٹرانسپورٹ مافیا کہ خود ساختہ بغیر روٹ پرمٹ کے قائم کیے گئے درجنوں اڈے ماڈل سٹی ننکانہ کے قیام کی میں سب سے بڑی رکاوٹ بنے ہوئے ہیں  جن کی وجہ سے شہر میں ٹریفک جام ہونا معمول بن چکا ہے سلام اباد ٹوڈے کی انوسٹیگیشن رپورٹ کے مطابق مذکورہ پرائیویٹ بس سٹینڈ اور ویگن اڈوں سے ماہانہ لاکھوں روپے اکٹھے کیے جاتے ہیں جو کہ چند سرکردہ افراد گزشتہ کئی سالوں سے اپس میں بندر بانڈ کر کے کھا رہے ہیں ذرائع کے مطابق مذکورہ اڈوں سے ماہانہ لاکھوں روپے بعض پولیس افسران اور دیگر افسران کو بھی پہنچائے جا رہے ہیں یہی وجہ ہے کہ مذکورہ اڈے شہریوں کی وبال جان بننے کے باوجود انہیں شہر سے منتقل نہیں کیا جا رہا شہریوں نے ڈپٹی کمشنر ننکانہ صاحب تسلیم اسلم راؤ سے مطالبہ کیا ہے کہ جہاں ایک طرف اجناس کی منڈیاں اور اٹھ دن شہر سے باہر منتقل کی ہیں اسی طرح اندرون شہر میں درجنوں قائم پرسوں اور وین کے اڈوں کو بھی شہر سے باہر منتقل کیا جائے کہا کہ علاقہ ہم کہیں سکون سے زندگی گزار سکیں واضح رہے کہ ٹرانسپورٹر مافیا بسوں اور ویگن کے مالکان سے یومیہ کی بنیاد پر لاکھوں روپے وصول کر رہے ہیں ذرائع کے مطابق جس کا باقاعدہ حصہ بعض پولیس افسران اور ذلی انتظامیہ کے افسران کو بھی دیا جاتا ہے یہی وجہ ہے کہ ٹرانسپورٹ مافیا ضلعی انتظامیہ اور پولیس کے مبینہ گٹھ جوڑ کی وجہ سے مذکورہ اڈے شہر سے باہر منتقل نہیں کیے جا رہے ہیںاس حوالے سے ضلع انتظامیہ ننکانہ صاحب کے ترجمان نے بتایا کہ مذکورہ اڈے بھی بہت جلد شہر سے باہر منتقل کر دیے جائیں گے تاکہ شہریوں کی مشکلات کم ہو سکیں

غیر قانونی بس اڈوں کی وجہ سے ننکانہ شہر میں  ٹریفک جام کا ایک منظر

اپنا تبصرہ بھیجیں