وزارت مواصلات میگا کرپشن سے ہلچل

پیپلز پارٹی کا وفاقی وزارتِ مواصلات پر براہِ راست وار
سینیٹ میں بدانتظامی، سڑکوں کے فنڈز کے غلط استعمال اور میگا کرپشن کے الزامات سے ہلچل

رانا تصدق حسین

اسلام آباد: پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کی سینیٹ میں پارلیمانی لیڈر، سینیٹر شیری رحمان نے ایوانِ بالا کی توجہ وفاقی وزیر برائے مواصلات عبدالعلیم خان کے اس طرزِ عمل کی جانب مبذول کرائی ہے جسے انہوں نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے مواصلات کے اجلاس کے دوران بدتمیزی، توہین آمیز رویہ اور پارلیمانی آداب کی صریح خلاف ورزی قرار دیا۔

سینیٹر شیری رحمان نے دوٹوک مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی وزیر کا یہ طرزِ عمل ایک وفاقی کابینہ کے رکن کے شایانِ شان نہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ عبدالعلیم خان سینیٹ کے فلور پر حاضر ہو کر سینیٹر پلوشہ خان سے غیرمشروط معافی مانگیں اور یہ معافی تمام سیاسی و پارلیمانی ذرائع سے، بالخصوص سینیٹر سلیم منڈوی والا کے ذریعے، دی جائے۔
قومی شاہراہوں کی دیکھ بھال معطل، فنڈز ذاتی مفادات کی نذر ہونے کا الزام
سینیٹ میں اٹھایا گیا سب سے سنگین اور بنیادی اعتراض یہ ہے کہ ایک جانب قومی شاہراہوں کی مرمت اور دیکھ بھال کے کام مکمل طور پر رکے ہوئے ہیں، جبکہ دوسری جانب انہی سڑکوں کے فنڈز مبینہ طور پر عبدالعلیم خان کی نجی ہاؤسنگ سوسائٹی پارک ویو سوسائٹی کی ترقی پر خرچ کیے گئے۔
پیپلز پارٹی کے اراکین کے مطابق یہ اقدامات روڈ مینٹیننس فنڈز کے منظور شدہ استعمال کی کھلی خلاف ورزی ہیں، جن میں مبینہ طور پر درج ذیل اخراجات شامل ہیں:
سیلاب کے بعد پارک ویو سوسائٹی میں انخلا اور بحالی کے آپریشنز پر اخراجات
دریائے راوی کے کنارے پارک ویو سوسائٹی، لاہور کو بچانے کے لیے حفاظتی بند (بینڈ) کی تعمیر
لاہور اور اسلام آباد میں پارک ویو سوسائٹی میں جدید اسٹریٹ لائٹس کی تنصیب، مبینہ طور پر سڑک استعمال کرنے والوں کے پیسے سے
این ایچ اے سنٹرل زون، لاہور کے ساتھ ایک پرتعیش ریسٹ ہاؤس کی تعمیر، جو مبینہ طور پر صرف وزیر موصوف کے ذاتی، سیاسی اور پارک ویو سوسائٹی سے متعلق استعمال میں ہے
پارک ویو سوسائٹی اسلام آباد میں عبدالعلیم خان کے نجی فارم ہاؤس کی تعمیر و تزئین، جو مبینہ طور پر افتخار ساجد، ممبر سنٹرل زون این ایچ اے لاہور، کے ذریعے این ایچ اے کے جی ایم (اسٹیبلشمنٹ)، ڈائریکٹر (اسٹیبلشمنٹ) اور ڈپٹی ڈائریکٹر (اسٹور و جنرل سروسز) کے توسط سے کرائی گئی

وزارتِ مواصلات کے دفاتر کی وسیع پیمانے پر تزئین و آرائش، بشمول آڈیٹوریم، فرنیچر، فکسچرز اور دیگر سہولیات، جن کے اخراجات سڑکوں کے فنڈز سے ادا کیے گئے
این ایچ اے ہیڈکوارٹرز میں فعال بیت الخلا، ڈے کیئر سہولت اور کیفے ٹیریا کی تزئین

ایسے افسران کے لیے مفت کھانے اور سہولیات کی فراہمی جو پیپلز پارٹی کے مطابق خود یہ اخراجات برداشت کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتے ہیں
پیپلز پارٹی نے مطالبہ کیا ہے کہ ان تمام اخراجات کا خصوصی اور وقت مقررہ کے اندر آڈٹ کرایا جائے، بالخصوص عبدالعلیم خان کے بطور وفاقی وزیر مواصلات اور علی شیر محسود کے بطور قائم مقام سیکریٹری مواصلات کے دورِ اقتدار کا، تاکہ یہ طے کیا جا سکے کہ آیا یہ اخراجات قانونی تھے یا عوامی پیسے کا مجرمانہ غلط استعمال۔

میگا کرپشن اسکینڈلز: سابق اعلیٰ افسران، مشکوک ٹھیکے، گرفتاریوں اور ٹول ریونیو کا انکشاف

سینیٹ کو این ایچ اے اور وزارتِ مواصلات میں مبینہ میگا کرپشن اسکینڈلز سے بھی آگاہ کیا گیا، جن میں سابق اور موجودہ اعلیٰ افسران کے نام واضح طور پر لیے گئے۔

نمایاں ناموں میں شامل ہیں:
شہریار سلطان، سابق چیئرمین/سی ای او این ایچ اے، جن پر بالخصوص جنوبی پنجاب میں مشکوک ٹھیکوں کی منظوری اور انہیں مبینہ طور پر خاندانی تعمیراتی کمپنیوں کو دلوانے کا الزام ہے
عمر سعید چوہدری، سابق ممبر (ایڈمنسٹریشن) این ایچ اے، جن پر انتظامی ہیرا پھیری، غیرقانونی عبوری تعیناتیوں اور ریونیو لیکیج میں مرکزی کردار ادا کرنے کا الزام ہے

مظہر حسین شاہ، سابق ممبر (فنانس) این ایچ اے، جن پر مشکوک مالی انتظامات اور عبوری ٹول پلازہ آپریشنز کی سرپرستی کا الزام ہے، جس سے این ایچ اے کو بھاری مالی نقصان ہوا

مظہر حسین شاہ، وفاقی وزیر اقتصادی امور/اسٹیبلشمنٹ ڈویژن احَد چیمہ کے برادرِ نسبتی بھی ہیں
الزامات کے مطابق ان افسران نے مل کر:

نام نہاد عبوری انتظامات کے تحت ٹول پلازوں کا آپریشن ممکن بنایا، جس سے این ایچ اے اپنے جائز ریونیو سے محروم رہا

شفافیت کے بغیر اور مفادات کے ٹکراؤ پر مبنی ٹھیکے دیے، جو خریداری اور مالی قوانین کی خلاف ورزی ہیں
اسی دوران ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ نیب، ایف آئی اے اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے درج ذیل موجودہ و سابق این ایچ اے افسران کے خلاف گرفتاریاں اور باقاعدہ تحقیقات متوقع ہیں:
افتخار ساجد، ممبر سنٹرل زون، این ایچ اے لاہور
جنرل منیجر مینٹیننس، لاہور
جنرل منیجر پی پی پی سیل، این ایچ اے
جنرل منیجر رائٹ آف وے (RoW)، این ایچ اے
تیمور حسن، سابق جی ایم ریونیو
عظیم خان، ڈپٹی ڈائریکٹر اسٹورز

ان افسران پر بدعنوانی، اختیارات کے ناجائز استعمال اور آمدن سے زائد اثاثوں کے الزامات ہیں، جبکہ متعدد انکوائریاں مبینہ طور پر آخری مراحل میں ہیں۔

پیپلز پارٹی نے ایف بی آر اور آئی آر ایس سے این ایچ اے میں تعینات ڈیپوٹیشن پر آئے افسران کے خلاف بھی فوری کارروائی کا مطالبہ کیا، انہیں غیرقانونی اور غیرآئینی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کی موجودگی نے این ایچ اے کے مستقل ملازمین کے تقرری و ترقی کے حقوق کو کچل دیا ہے، جو اعلیٰ عدلیہ کے واضح فیصلوں کی بھی توہین ہے۔

پرولیجز کمیٹی متحرک، باضابطہ پارلیمانی تحقیقات کا آغاز

ایک اہم پارلیمانی پیش رفت میں، چیئرمین سینیٹ نے معاملہ باضابطہ طور پر سینیٹ کی کمیٹی برائے مراعات (Privileges Committee) کو بھجوا دیا ہے تاکہ وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان، قائم مقام سیکریٹری مواصلات علی شیر محسود اور اجلاس میں شریک تمام افسران کے مبینہ غیرمہذب رویے، بدسلوکی اور پارلیمانی قواعد کی خلاف ورزی کی تحقیقات کی جا سکیں۔

یہ ریفرنس کمیٹی کو ریکارڈ طلب کرنے، گواہوں کو طلب کرنے، ذمہ داری کا تعین کرنے اور سینیٹ کے قواعد و ضوابط کے تحت کارروائی کی سفارش کا اختیار دیتا ہے، جس سے معاملہ محض سیاسی تنازع سے بڑھ کر باقاعدہ پارلیمانی احتساب بن چکا ہے۔
پورٹ فولیو میں تبدیلی زیرِ غور، بحران سنگین ہوتا جا رہا ہے

ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی اور وفاقی کابینہ کے ایک رکن کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیشِ نظر، قانون نافذ کرنے والے اداروں نے وزیر اعظم کو سفارش کی ہے کہ:
عبدالعلیم خان کا بطور وفاقی وزیر مواصلات پورٹ فولیو تبدیل کیا جائے

علی شیر محسود سے قائم مقام سیکریٹری مواصلات کا چارج واپس لیا جائے
عمر سعید چوہدری، معزول ممبر ایڈمنسٹریشن این ایچ اے، کے ذریعے مبینہ طور پر بیک ڈیٹڈ ڈیپارٹمنٹل پروموشن کمیٹی اجلاس کے ذریعے مالی فوائد حاصل کرنے کی تحقیقات کرائی جائیں

ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ سفارشات تیزی سے بگڑتی صورتحال کو قابو میں رکھنے کے لیے دی گئی ہیں، کیونکہ وزیر اور قائم مقام سیکریٹری کا موجودہ طرزِ عمل ریاست کے مفاد میں نہیں سمجھا جا رہا۔

سما نیوز ڈرون واقعہ پھر زیرِ بحث، ایف آئی آر کا امکان برقرار

پیپلز پارٹی کے اراکین نے جنوبی پنجاب کے اس واقعے کو بھی یاد دلایا جس میں سما نیوز کا ڈرون ایک سیاسی جلسے کے دوران محترمہ آصفہ بھٹو زرداری کے چہرے سے ٹکرا گیا تھا۔

پارٹی نے واضح کیا کہ عبدالعلیم خان، جو سما نیوز کے مالک بھی ہیں، کے خلاف ایف آئی آر درج کرانے کا اصولی فیصلہ پہلے ہی ہو چکا ہے، اور حالیہ واقعات نے صورتحال کو مزید کشیدہ بنا دیا ہے۔

پریس کانفرنس متوقع، دھماکہ خیز انکشافات کا عندیہ

معتبر ذرائع کے مطابق عبدالعلیم خان بحران کو کم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، تاہم اندرونی حلقوں کا ماننا ہے کہ معاملہ ان کے کنٹرول سے نکل چکا ہے۔

اطلاعات ہیں کہ سینیٹر پلوشہ خان جلد ایک پریس کانفرنس کریں گی، جس میں درج ذیل امور پر تفصیلی انکشافات متوقع ہیں:

سڑکوں کے فنڈز کا مبینہ غلط استعمال

این ایچ اے کے رائٹ آف وے کی تشہیری و تجارتی بنیادوں پر فروخت

میگا کرپشن اسکینڈلز، جن میں مخصوص نام اور مالی لین دین کی تفصیلات شامل ہوں گی

سیاسی مبصرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر فوری اصلاحی اقدامات نہ کیے گئے تو یہ بحران وزارتِ مواصلات، این ایچ اے اور وفاقی حکومت کے لیے سنگین نتائج کا باعث بن سکتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں