سیرینا کا پی ٹی أئی کو دو ٹوک جواب

’7 لاکھ روپے لیز‘ کا دعویٰ جھوٹا ثابت — دستاویزات کے مطابق 2015 سے سالانہ 88 لاکھ روپے کی ادائیگی
رانا تصدق حسین
سوات — سیرینا ہوٹلز کی انتظامیہ نے پی ٹی آئی کے سوات سے رکنِ صوبائی اسمبلی اختر خان کی جانب سے لگائے گئے الزامات کو سختی اور وضاحت کے ساتھ مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ سوات سیرینا ہوٹل کے بارے میں یہ دعویٰ کہ وہ محض سالانہ 7 لاکھ روپے کے عوض لیز پر چل رہا تھا، حقائق کے منافی، گمراہ کن اور دستاویزی ریکارڈ کے بالکل برعکس ہے۔
سیرینا ہوٹلز کے ایک سینئر عہدیدار نے قابلِ تصدیق لیز دستاویزات کی بنیاد پر واضح کیا کہ ہوٹل 2015 سے متنازعہ بندش تک باقاعدگی سے سالانہ 88 لاکھ روپے (Rs 8.8 million) کی مقررہ لیز رقم ادا کرتا رہا ہے، جو پی ٹی آئی قانون ساز کے بیانیے کی صریح تردید ہے۔
انتظامیہ نے اس دعوے کو بھی یکسر رد کر دیا کہ ہوٹل نے لیز کی رقم میں نظرِ ثانی یا اضافہ کرنے کے مطالبے کے بعد جگہ خالی کی۔ سیرینا حکام کے مطابق نہ کبھی ایسا کوئی مطالبہ سامنے آیا اور نہ ہی بندش کی وجہ لیز رینٹ سے متعلق کوئی تنازعہ تھا۔
سیرینا ہوٹلز کے عہدیداران نے زور دے کر کہا کہ ہوٹل کی تمام لیز ادائیگیاں بروقت، معاہدے کے مطابق اور مکمل طور پر دستاویزی تھیں، جن میں کسی قسم کے ابہام یا قیاس آرائی کی کوئی گنجائش نہیں۔
انتظامیہ کے مطابق عوامی سطح پر گردش کرنے والی 7 لاکھ روپے کی رقم کا اصل لیز معاہدے سے کوئی تعلق نہیں، اور اس قسم کے بے بنیاد دعوؤں کی تکرار عوام کو گمراہ کرنے، سرمایہ کاروں کے اعتماد کو مجروح کرنے اور ایک خالصتاً تجارتی معاملے کو سیاسی رنگ دینے کے مترادف ہے، جو تحریری معاہدات اور مالی ریکارڈ کے تحت چلتا ہے۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ تنازعہ نجی تجارتی اداروں کو سیاسی بیانیے میں گھسیٹنے کے بڑھتے ہوئے رجحان کی عکاسی کرتا ہے، خاص طور پر سوات جیسے حساس سیاحتی خطے میں، جہاں اس نوعیت کی شہرت کو نقصان پہنچنے کے طویل المدتی معاشی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
سیرینا ہوٹلز نے واضح کیا ہے کہ حقائق، دستاویزات اور مکمل ادائیگی کی تاریخ ریکارڈ پر موجود ہے، اور اس کے برعکس کیے جانے والے تمام دعوے قابلِ تردید، گمراہ کن اور ناقابلِ دفاع ہیں۔