یونیورسٹی کالج اسلام أباد بحرانوں کاشکار

جب ریاست نظریں چرا لے، قیمت نوجوان ادا کرتے ہیں

یونیورسل کالج اسلام آباد (UCI) کی قانون کی ڈگری

تنازع اب HEC، FIA اور ریاستی ذمہ داری کے لیے ایک ٹیسٹ کیس بن چکا ہے

رانا تصدق حسین

اسلام آباد: یونیورسل کالج اسلام آباد (UCI) کے قانون کے طلبہ کی جانب سے ادارے کے خلاف دائر کی گئی شکایت اب محض ایک تعلیمی تنازع نہیں رہی بلکہ اس نے ریاستی احتساب کے ایک سنگین بحران کی شکل اختیار کر لی ہے۔ طلبہ نے براہِ راست حکومتِ پاکستان، چیئرمین ہائر ایجوکیشن کمیشن (HEC) کو ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے وفاقی تحقیقاتی ادارے (FIA) کی مداخلت کا باضابطہ مطالبہ کر دیا ہے۔
شکایت کنندگان کا مؤقف ہے کہ نوجوانوں کے مستقبل سے جڑے معاملات، خصوصاً پیشہ ورانہ ڈگریاں جیسے LLB (آنرز)، کسی صورت نجی تنازع نہیں ہو سکتے بلکہ یہ ریاست کی بنیادی ذمہ داریوں میں شامل ہیں۔
طلبہ کا کہنا ہے کہ ریگولیٹری چھتری کے تحت کام کرنے والے تعلیمی اداروں کو یہ اجازت نہیں دی جا سکتی کہ وہ غیر مصدقہ دعوؤں، جھوٹی یقین دہانیوں اور ضابطہ جاتی ابہام کے ذریعے خاندانوں کی جمع پونجی اور محدود گھریلو وسائل کو بے دردی سے لوٹیں۔
شکایت کا مرکزی نکتہ یہ الزام ہے کہ UCI نے داخلے کے وقت طلبہ کو یقین دہانی کروائی کہ اس کا LLB (آنرز) پروگرام مکمل طور پر HEC سے منظور شدہ ہے، جس دعوے نے طلبہ کے داخلے کے فیصلوں، فیسوں کی ادائیگی اور طویل المدتی پیشہ ورانہ منصوبہ بندی کو براہِ راست متاثر کیا۔
تاہم بارہا مطالبات کے باوجود انتظامیہ کسی سرکاری نوٹیفکیشن، منظوری کے خط یا ایسی کسی دستاویزی شہادت کو پیش کرنے میں ناکام رہی جو اس دعوے کی تصدیق کر سکے۔ اس کے برعکس، طلبہ کے مطابق انتظامیہ تاخیری حربے اور ٹال مٹول پر مبنی رویہ اختیار کیے ہوئے ہے، بار بار یہ کہہ کر کہ “تمام مسائل سیشن کے اختتام پر حل ہو جائیں گے” — جسے طلبہ قانونی طور پر بے معنی اور دانستہ فریب قرار دیتے ہیں، کیونکہ اس دوران فیسوں کی وصولی بلا تعطل جاری رہتی ہے اور غیر یقینی صورتحال برقرار رہتی ہے۔
مزید تشویشناک بات یہ ہے کہ شکایت میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ جو طلبہ شفافیت کا مطالبہ کرتے ہیں یا ادارے کے دعوؤں کو چیلنج کرتے ہیں، انہیں دھمکیوں، زبانی ہراسانی اور دباؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جس کے باعث تعلیمی ماحول خوف اور جبر میں تبدیل ہو چکا ہے۔
طلبہ کے مطابق اگر یہ رویہ معلومات چھپانے یا حقیقت دبانے کی منظم کوشش ثابت ہوا تو یہ نہ صرف غیر اخلاقی بلکہ فوجداری ذمہ داری کو بھی جنم دے سکتا ہے۔
اگرچہ طلبہ نے سر جمال اور لا برانچ کی کوآرڈینیٹر محترمہ فوزیہ کے پیشہ ورانہ طرزِ عمل کو سراہا ہے، تاہم ان کا اصرار ہے کہ مجموعی انتظامی ڈھانچہ غیر تعاون، مخاصمانہ اور بعض اوقات توہین آمیز رویے کا مظاہرہ کرتا رہا ہے، جو انفرادی غلطیوں کے بجائے منظم بدانتظامی اور ممکنہ بدعنوانی کے خدشات کو تقویت دیتا ہے۔
معاملے میں نمایاں شدت آتے ہوئے طلبہ نے چیئرمین HEC سے مطالبہ کیا ہے کہ اس کیس کو ریگولیٹری ناکامی کے طور پر دیکھا جائے اور باضابطہ طور پر درج ذیل اقدامات کیے جائیں:
HEC کی نگرانی میں UCI کے LLB (آنرز) پروگرام کی منظوری اور قانونی حیثیت کے تعین کے لیے فوری طور پر ایک آزاد انکوائری کا قیام؛
پروگرام کی ریگولیٹری حیثیت کی عوامی سطح پر واضح اور شفاف تشہیر تاکہ مزید طلبہ کے استحصال کو روکا جا سکے؛
حقائق سامنے لانے والے طلبہ کو ہراسانی اور انتقامی کارروائیوں سے ریاستی تحفظ کی فراہمی؛
اور معاملے کو وفاقی تحقیقاتی ادارے (FIA) کے سپرد کیا جائے تاکہ ممکنہ فراڈ، غلط بیانی، جبر اور مالی استحصال کے پہلوؤں کی تحقیقات کی جا سکیں۔
طلبہ نے خبردار کیا ہے کہ اگر ریاستی ادارے خاموش رہے تو اسے ریاستی دستبرداری تصور کیا جائے گا، جس کے نتیجے میں نجی تعلیمی ادارے بے لگام ہو کر ڈگریاں بیچنے والے کاروبار بن جائیں گے اور اس کی قیمت نوجوانوں کے مستقبل اور عوامی اعتماد کو ادا کرنی پڑے گی۔
شکایت کے اختتام پر زور دیا گیا ہے کہ ریگولیٹرز کی خاموشی رضامندی کے مترادف سمجھی جائے گی، اور پاکستان کے اعلیٰ تعلیمی نظام پر اعتماد کی بحالی اور طلبہ کو ادارہ جاتی استحصال سے بچانے کے لیے فیصلہ کن ریاستی مداخلت ناگزیر ہو چکی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں