ہر ائینی قانونی راستہ اختیار کریں گے

ننکانہ صاحب (بیورورپورٹ) ہم آج ایک نہایت اہم اور حساس معاملے پر گفتگو کے لیے حاضر ہیں، جس کا تعلق بھارتی سکھ یاتری سربجیت کور (بعد ازاں نور حسین) کے ویزا اووراسٹے، مبینہ غیر قانونی قیام اور مذہبی یاتری جتھوں کے طے شدہ پروٹوکول کی سنگین خلاف ورزی سے ہے۔ یہ معاملہ اب ایک قانونی، انتظامی اور قومی سلامتی کا مسئلہ بن چکا ہے۔ ہم آپ کو آگاہ کرنا چاہتے ہیں کہ اس ضمن میں دائر کردہ آئینی درخواست کو لاہور ہائی کورٹ نے باقاعدہ ریگولر ہیرنگ کے لیے منظور کر لیا ہے اور وزارتِ داخلہ، امیگریشن حکام، ایف آئی اے سمیت متعلقہ وفاقی و صوبائی اداروں سے تفصیلی رپورٹس طلب کر لی گئی ہیں۔
ہم یہ بات ریکارڈ پر لانا چاہتے ہیں کہ اس معاملے پر قانونی کارروائی کے لیے ایف آئی اے اور نَنکانہ صاحب سٹی پولیس اسٹیشن میں باقاعدہ ایف آئی آر درج کروانے کی درخواست دی گئی۔ نَنکانہ صاحب سٹی کے متعلقہ ایس ایچ او اللہ وسایا نے درخواست وصول کرنے کے بعد یہ مؤقف اختیار کیا کہ فی الحال ایف آئی آر درج نہیں کی جائے گی اور “ڈسکس کر کے آگاہ کیا جائے گا”، تاہم اس کے بعد نہ کالز اٹینڈ کی گئیں، نہ کوئی جواب دیا گیا اور نہ ہی تاحال کوئی کارروائی عمل میں لائی گئی۔ اسی طرح، ایف آئی اے کو درخواست دیے جانے کے باوجود ابھی تک کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، جو ایک سنگین سوالیہ نشان ہے اور قانون کے تقاضوں کے برعکس ہے۔ یہ صورتحال اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ نہ صرف یاتری پروٹوکول میں کوتاہی ہوئی بلکہ قانونی ذمہ داری نبھانے میں بھی تاخیر اور عدم سنجیدگی کا مظاہرہ کیا جا رہا ہے۔ اس معاملے میں پاکستان سکھ گوردوارہ پربندھک کمیٹی (PSGPC) کے ساتھ ساتھ متعلقہ وفاقی اور صوبائی اداروں کی غفلت واضح طور پر سامنے آتی ہے۔ یاتری کا جتھے سے الگ ہونا، بروقت اطلاع نہ ملنا، ویزا خلاف ورزی اور بعد ازاں قانونی کارروائی میں رکاوٹ یہ سب ایک اجتماعی انتظامی ناکامی کی عکاسی کرتے ہیں۔ ہم حکومتِ پاکستان، عدلیہ اور تمام متعلقہ وفاقی و صوبائی اداروں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ فوری طور پر ایف آئی آر درج کی جائے ویزا اور یاتری پروٹوکول کی خلاف ورزی پر قانون کے مطابق کارروائی کی جائے مستقبل میں مذہبی یاتریوں کے لیے سخت، شفاف اور مؤثر مانیٹرنگ نظام نافذ کیا جائے ہم پاکستانی سکھ کمیونٹی کے نمائندوں کے طور پر قومی سلامتی اور مذہبی احترام کے تحفظ کے لیے ہر آئینی و قانونی راستہ اختیار کریں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں