قائمہ کمیٹی ہنگامہ حکومتی اتحاد امنے سامنے راناتصدق حسین کا کالم

🔥 سینیٹ میں ہنگامہ: وزیر مواصلات عبدالعلیم خان کے خلاف استحقاق تحریک، پیپلز پارٹی کا “سرکس سیاست” کے خلاف اعلانِ جنگ 🔥
رانا تصدق حسین
اسلام آباد: سینیٹ میں ایک سنگین آئینی بحران جنم لے چکا ہے جہاں پاکستان پیپلز پارٹی کی سینیٹر پلوشہ خان نے وزیرِ مواصلات عبدالعلیم خان کے خلاف استحقاق تحریک جمع کرا دی ہے، جس میں ان کے رویے کو پارلیمانی وقار کے منافی اور غیر جمہوری قرار دیا گیا ہے۔
یہ اقدام سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے مواصلات کے اجلاس میں پیش آنے والے شدید تلخ کلامی کے بعد سامنے آیا، جہاں وزیر نے نیشنل ہائی وے اتھارٹی (NHA) کے ایک سڑک منصوبے پر سوال اٹھانے پر جارحانہ اور دھمکی آمیز ردعمل دیا۔
“ہم آپ سے وہی سلوک کریں گے” — وزیر کا بیان پارلیمان کی توہین
سینیٹر پلوشہ خان کے مطابق وزیر نے کہا:
“ہم آپ کے ساتھ وہی سلوک کریں گے جو ہمارے ساتھ کیا جا رہا ہے”
جو کہ پارلیمانی آزادی پر حملہ تصور کیا جا رہا ہے۔
تحریری سوال کا جواب نہیں دیا گیا
سینیٹر نے بتایا کہ انہوں نے مہینوں پہلے قانونی تحریری سوال جمع کرایا، مگر وزارت نے جان بوجھ کر جواب نہیں دیا، جس کے باعث معاملہ قائمہ کمیٹی میں آیا۔
سوال یہ تھا:
کیا یہ سڑک عوامی مفاد کے لیے بنی یا کسی مخصوص ہاؤسنگ سوسائٹی کو فائدہ پہنچانے کے لیے؟
“قائمہ کمیٹی ڈرائنگ روم نہیں”
سینیٹر پلوشہ خان نے کہا:
“سینیٹ کمیٹی پارلیمان کا تسلسل ہے، یہاں آواز نہیں دلیل مضبوط ہونی چاہیے۔”
وزیراعظم کی ذمہ داری
انہوں نے واضح کیا کہ:
“کابینہ کے رویے کی اجتماعی ذمہ داری وزیراعظم پر عائد ہوتی ہے۔”
IMF رپورٹ کی بنیاد پر فرانزک آڈٹ کا مطالبہ
پیپلز پارٹی نے وزارتِ مواصلات کے تمام معاملات کا فرانزک آڈٹ کرنے کا مطالبہ کیا۔
NHA کو جان بوجھ کر ناکام دکھایا جا رہا ہے
یہ بھی کہا گیا کہ NHA، جو کھربوں روپے کے منصوبے مکمل کر چکی ہے اور CPEC کی ریڑھ کی ہڈی ہے، کو دانستہ ناکام ادارہ بنا کر پیش کیا جا رہا ہے۔
1.6 کھرب قرض، مگر الزام NHA پر؟
ریاست نے 1.6 کھرب روپے سے زائد کا قرض بین الاقوامی مارکیٹ سے لیا:
نیشنل ہائی وے کونسل کو شامل نہیں کیا گیا
مگر 3 کھرب روپے کا قرض NHA پر ڈال دیا گیا
NHA افسران کا فوری برطرفی کا مطالبہ
NHA افسران نے مطالبہ کیا ہے کہ:
عبدالعلیم خان
علی شیر محسود (قائم مقام سیکرٹری)
اور ان کے من پسند ڈیپوٹیشن افسران کو فوری طور پر ہٹایا جائے۔
یہ تمام افراد NAB سے منسلک تحقیقات میں مبینہ طور پر کھربوں روپے کی کرپشن میں ملوث بتائے جا رہے ہیں۔
یہ مطالبہ 7 جنوری 2026 کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں زیر سماعت کیس سے قبل کیا گیا ہے۔