ائینی نظام میں انقلابی موڑ رانا تصدق حسین کی رپورٹ

ایف سی سی کا تاریخی فیصلہ: سپریم کورٹ سمیت تمام عدالتیں اب ایف سی سی کے فیصلوں کی پابند — آئینی نظام میں انقلابی موڑ
رانا تصدق حسین
اسلام آباد: پاکستان کے آئینی و عدالتی ڈھانچے کو ازسرِنو متعین کرنے والے ایک تاریخی آئینی فیصلے میں وفاقی آئینی عدالت (Federal Constitutional Court – FCC) نے دوٹوک انداز میں قرار دیا ہے کہ اس کے فیصلے سپریم کورٹ آف پاکستان سمیت ملک کی تمام عدالتوں پر لازم اور واجب التعمیل ہیں۔
یہ فیصلہ ایف سی سی کے دو رکنی بینچ نے، جس کی سربراہی جسٹس عامر فاروق اور جسٹس روزی خان بارچی کر رہے تھے، ایک درخواست مسترد کرتے ہوئے سنایا، جس میں درخواست گزار کے والد سے 1970ء کی دہائی میں سرکار کی جانب سے واپس لی گئی زمین کی بحالی کی استدعا کی گئی تھی۔
ایف سی سی کے معزز بینچ نے ایک بنیادی آئینی اصول کو واضح کرتے ہوئے کہا کہ:
آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 189 کے تحت سپریم کورٹ کی جانب سے طے کیا گیا کوئی بھی قانونی سوال ملک کی تمام عدالتوں پر لازم ہوتا ہے، سوائے وفاقی آئینی عدالت کے۔
تاہم، عدالت نے آئین میں 27ویں ترمیم کا حوالہ دیتے ہوئے ایک نہایت واضح، مضبوط اور تاریخی وضاحت کی:
وفاقی آئینی عدالت کے فیصلے پاکستان کی تمام عدالتوں پر، بشمول سپریم کورٹ، لازم ہیں۔
ایف سی سی کے مطابق، یہ آئینی ترمیم وفاقی آئینی عدالت کو عدالتی نظائر (Judicial Precedence) کے اعتبار سے اعلیٰ ترین مقام عطا کرتی ہے، جس کے تحت پاکستان کی ہر عدالت بغیر کسی استثنا کے ایف سی سی کے فیصلوں کی پابند ہے۔
عدالتی حکم میں نہایت واضح الفاظ میں کہا گیا:
“یہ استثنا آئین میں 27ویں ترمیم کے نتیجے میں پیدا ہوتا ہے، جس کے تحت وفاقی آئینی عدالت کے فیصلے پاکستان کی تمام عدالتوں پر، بشمول سپریم کورٹ، لازم ہیں۔
لہٰذا پاکستان کی تمام عدالتیں آئینی طور پر اس بات کی پابند ہیں کہ وہ وفاقی آئینی عدالت کے فیصلوں پر مکمل طور پر عمل کریں۔”
قانونی ماہرین کے مطابق یہ فیصلہ آئینی وضاحت، عدالتی نظم و ضبط اور آئینی بالادستی کو غیر معمولی طور پر مضبوط کرتا ہے۔
یہ مستند آئینی تشریح اب اس حوالے سے موجود تمام ابہام کو ختم کر دیتی ہے کہ وفاقی آئینی عدالت کے فیصلوں کی پابندی کس حد تک لازم ہے۔ یہ پیش رفت نہ صرف آئینی قانون بلکہ پاکستان کے پورے عدالتی نظام کے لیے دور رس اور گہرے اثرات کی حامل ہے۔