جہانگیری سچے ہیں تو وکالت کریں  ۔ ایم اے شام کی انویٹسی گیشن رپورٹ

اسلام أباد (ایم اے شام)اسلام أباد ہائیکورٹ سے سبکدوش کئے گیے جسٹس طارق محمود جہانگیری کیلئے اب وکالت کرنا بھی مشکل ہی نہیں ناممکن ہوجائیگا کیونکہ انکی وکالت کی ڈگری حقیقت میں مشکوک ہی بلکہ ریکارڈ کے مطابق جعلی ہے اس فیصلے پر تنقید کرنیوالے اگر جہانگیر صدیقی کو ماضی بعید میں وکالت کرتے دیکھیں گے تو تنقید کرنیوالوں کے موقف کو درست مان لیا جائیگا انویسٹی گیشن کے مطابق طارق جہانگیری نے گریجو ایشن لاہور کے ایک تعلیمی ادارے سے کی اور پاکستان پیپلز پارٹی کی زیلی تنظیم پی ایس ایف کے صدر بھی رھے یعنی دوسرے لفظوں میں وہ سابق جیالے ہیں لاہور سے گریجوایشن کرنے کے بعد سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ وہ ایل ایل بی کی ڈگری کے لیے کراچی یعنی سندھ ہی کیوں گئے اور پھر وہاں دوران امتحان نقل کرتے پکڑے جانے کا ریکارڈ کوئی نیا نہیں بنایا گیا بلکہ وہ پرانا ہی ریکارڈ ہے اس کے مطابق ان کی ایل ایل بی کی ڈگری جعلی ہے اس فیصلے پر تنقید کرنے والوں کا زیادہ تر تعلق پی ٹی أئی سے ہے جو محض یہ سمجھتے ہیں کہ طارق محمود جہانگیری ان ججز میں شامل ہے جنہوں نے سپریم کورٹ اف پاکستان کے چیف جسٹس کو خط لکھا تھا اگر جواز یہی ہے تو چیف جسٹس کو خط لکھنے والے دیگر پانچ ججز بھی ابھی تا حال موجود ہیں انہیں کیوں سبکدوش نہیں کیا گیااسلام أباد ہائیکورٹ سے سبکدوش کئے گیے جسٹس طارق محمود جہانگیری کیلئے اب وکالت کرنا بھی مشکل ہی نہیں ناممکن ہوجائیگا کیونکہ انکی وکالت کی ڈگری حقیقت میں مشکوک ہی بلکہ ریکارڈ کے مطابق جعلی ہے اس فیصلے پر تنقید کرنیوالے اگر جہانگیر صدیقی کو ماضی بعید میں وکالت کرتے دیکھیں گے تو تنقید کرنیوالوں کے موقف کو درست مان لیا جائیگا انویسٹی گیشن کے مطابق طارق جہانگیری نے گریجو ایشن لاہور کے ایک تعلیمی ادارے سے کی اور پاکستان پیپلز پارٹی کی زیلی تنظیم پی ایس ایف کے صدر بھی رھے یعنی دوسرے لفظوں میں وہ سابق جیالے ہیں لاہور سے گریجوایشن کرنے کے بعد سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ وہ ایل ایل بی کی ڈگری کے لیے کراچی یعنی سندھ ہی کیوں گئے اور پھر وہاں دوران امتحان نقل کرتے پکڑے جانے کا ریکارڈ کوئی نیا نہیں بنایا گیا بلکہ وہ پرانا ہی ریکارڈ ہے اس کے مطابق ان کی ایل ایل بی کی ڈگری جعلی ہے اس فیصلے پر تنقید کرنے والوں کا زیادہ تر تعلق پی ٹی أئی سے ہے جو محض یہ سمجھتے ہیں کہ طارق محمود جہانگیری ان ججز میں شامل ہے جنہوں نے سپریم کورٹ اف پاکستان کے چیف جسٹس کو خط لکھا تھا اگر جواز یہی ہے تو چیف جسٹس کو خط لکھنے والے دیگر پانچ ججز بھی ابھی تا حال موجود ہیں انہیں کیوں سبکدوش نہیں کیا گیااسلام أباد ہائیکورٹ سے سبکدوش کئے گیے جسٹس طارق محمود جہانگیری کیلئے اب وکالت کرنا بھی مشکل ہی نہیں ناممکن ہوجائیگا کیونکہ انکی وکالت کی ڈگری حقیقت میں مشکوک ہی بلکہ ریکارڈ کے مطابق جعلی ہے اس فیصلے پر تنقید کرنیوالے اگر جہانگیر صدیقی کو ماضی بعید میں وکالت کرتے دیکھیں گے تو تنقید کرنیوالوں کے موقف کو درست مان لیا جائیگا انویسٹی گیشن کے مطابق طارق جہانگیری نے گریجو ایشن لاہور کے ایک تعلیمی ادارے سے کی اور پاکستان پیپلز پارٹی کی زیلی تنظیم پی ایس ایف کے صدر بھی رھے یعنی دوسرے لفظوں میں وہ سابق جیالے ہیں لاہور سے گریجوایشن کرنے کے بعد سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ وہ ایل ایل بی کی ڈگری کے لیے کراچی یعنی سندھ ہی کیوں گئے اور پھر وہاں دوران امتحان نقل کرتے پکڑے جانے کا ریکارڈ کوئی نیا نہیں بنایا گیا بلکہ وہ پرانا ہی ریکارڈ ہے اس کے مطابق ان کی ایل ایل بی کی ڈگری جعلی ہے اس فیصلے پر تنقید کرنے والوں کا زیادہ تر تعلق پی ٹی أئی سے ہے جو محض یہ سمجھتے ہیں کہ طارق محمود جہانگیری ان ججز میں شامل ہے جنہوں نے سپریم کورٹ اف پاکستان کے چیف جسٹس کو خط لکھا تھا اگر جواز یہی ہے تو چیف جسٹس کو خط لکھنے والے دیگر پانچ ججز بھی ابھی تا حال موجود ہیں انہیں کیوں سبکدوش نہیں کیا گیااسلام أباد ہائیکورٹ سے سبکدوش کئے گیے جسٹس طارق محمود جہانگیری کیلئے اب وکالت کرنا بھی مشکل ہی نہیں ناممکن ہوجائیگا کیونکہ انکی وکالت کی ڈگری حقیقت میں مشکوک ہی بلکہ ریکارڈ کے مطابق جعلی ہے اس فیصلے پر تنقید کرنیوالے اگر جہانگیر صدیقی کو ماضی بعید میں وکالت کرتے دیکھیں گے تو تنقید کرنیوالوں کے موقف کو درست مان لیا جائیگا انویسٹی گیشن کے مطابق طارق جہانگیری نے گریجو ایشن لاہور کے ایک تعلیمی ادارے سے کی اور پاکستان پیپلز پارٹی کی زیلی تنظیم پی ایس ایف کے صدر بھی رھے یعنی دوسرے لفظوں میں وہ سابق جیالے ہیں لاہور سے گریجوایشن کرنے کے بعد سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ وہ ایل ایل بی کی ڈگری کے لیے کراچی یعنی سندھ ہی کیوں گئے اور پھر وہاں دوران امتحان نقل کرتے پکڑے جانے کا ریکارڈ کوئی نیا نہیں بنایا گیا بلکہ وہ پرانا ہی ریکارڈ ہے اس کے مطابق ان کی ایل ایل بی کی ڈگری جعلی ہے اس فیصلے پر تنقید کرنے والوں کا زیادہ تر تعلق پی ٹی أئی سے ہے جو محض یہ سمجھتے ہیں کہ طارق محمود جہانگیری ان ججز میں شامل ہے جنہوں نے سپریم کورٹ اف پاکستان کے چیف جسٹس کو خط لکھا تھا اگر جواز یہی ہے تو چیف جسٹس کو خط لکھنے والے دیگر پانچ ججز بھی ابھی تا حال موجود ہیں انہیں کیوں سبکدوش نہیں کیا گیااسلام أباد ہائیکورٹ سے سبکدوش کئے گیے جسٹس طارق محمود جہانگیری کیلئے اب وکالت کرنا بھی مشکل ہی نہیں ناممکن ہوجائیگا کیونکہ انکی وکالت کی ڈگری حقیقت میں مشکوک ہی بلکہ ریکارڈ کے مطابق جعلی ہے اس فیصلے پر تنقید کرنیوالے اگر جہانگیر صدیقی کو ماضی بعید میں وکالت کرتے دیکھیں گے تو تنقید کرنیوالوں کے موقف کو درست مان لیا جائیگا انویسٹی گیشن کے مطابق طارق جہانگیری نے گریجو ایشن لاہور کے ایک تعلیمی ادارے سے کی اور پاکستان پیپلز پارٹی کی زیلی تنظیم پی ایس ایف کے صدر بھی رھے یعنی دوسرے لفظوں میں وہ سابق جیالے ہیں لاہور سے گریجوایشن کرنے کے بعد سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ وہ ایل ایل بی کی ڈگری کے لیے کراچی یعنی سندھ ہی کیوں گئے اور پھر وہاں دوران امتحان نقل کرتے پکڑے جانے کا ریکارڈ کوئی نیا نہیں بنایا گیا بلکہ وہ پرانا ہی ریکارڈ ہے اس کے مطابق ان کی ایل ایل بی کی ڈگری جعلی ہے اس فیصلے پر تنقید کرنے والوں کا زیادہ تر تعلق پی ٹی أئی سے ہے جو محض یہ سمجھتے ہیں کہ طارق محمود جہانگیری ان ججز میں شامل ہے جنہوں نے سپریم کورٹ اف پاکستان کے چیف جسٹس کو خط لکھا تھا اگر جواز یہی ہے تو چیف جسٹس کو خط لکھنے والے دیگر پانچ ججز بھی ابھی تا حال موجود ہیں انہیں کیوں سبکدوش نہیں کیا گیا پی ٹی ائی کے حمایت یافتہ وکلا اور دیگر سیاسی رہنما حقائق کو جانے بغیر بلا جواز چیف جسٹس اف اسلام اباد ہائی کورٹ سرفراز ڈوگر پر حکومتی بغض میں تنقید کر رہے ہیں

اپنا تبصرہ بھیجیں