سولر صارفیں کیلئے اہم خبر

وفاقی حکومت نے سولر صارفین کے لیے نیٹ میٹرنگ سسٹم ختم کرنے اور اس کی جگہ نیٹ بلنگ پالیسی نافذ کرنے کا حتمی فیصلہ کر لیا ہے۔ اس فیصلے پر عملدرآمد کے لیے نیپرا (NEPRA) نے باضابطہ طور پر ورکنگ شروع کر دی ہے۔

نیٹ میٹرنگ کیا تھی؟

نیٹ میٹرنگ کے تحت اگر کسی گھر یا دکان پر سولر سسٹم لگا ہو تو:

دن کے وقت سولر سے بننے والی اضافی بجلی واپس گرڈ میں چلی جاتی تھی

رات یا ضرورت کے وقت صارف وہی یونٹس گرڈ سے لے لیتا تھا

امپورٹ (لی گئی) اور ایکسپورٹ (دی گئی) بجلی ایک ہی ریٹ پر ایڈجسٹ ہو جاتی تھی

نتیجتاً بہت سے صارفین کے بجلی کے بل زیرو یا بہت کم آتے تھے

اسی وجہ سے لاکھوں صارفین نے سولر سسٹم لگوایا اور اربوں روپے کا ریلیف ملا۔


حکومت نے نیٹ میٹرنگ کیوں ختم کی؟

حکومت اور پاور سیکٹر کے مطابق:

نیٹ میٹرنگ کی وجہ سے بجلی کمپنیوں کو اربوں روپے کا نقصان ہو رہا تھا

گرڈ اور سسٹم کے اخراجات پورے نہیں ہو پا رہے تھے

اس لیے حکومت نے پالیسی تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا


نیا نظام: نیٹ بلنگ کیا ہے؟

اب نیٹ میٹرنگ کی جگہ نیٹ بلنگ متعارف کرائی جا رہی ہے، جس میں:

گرڈ سے لی گئی بجلی (Import Units) پر قومی ٹیرف لاگو ہوگا (مثلاً 55 سے 65 روپے فی یونٹ)

سولر سے گرڈ کو دی گئی بجلی (Export Units) پر تقریباً 27 روپے فی یونٹ ادا کیے جائیں گے

امپورٹ اور ایکسپورٹ یونٹس کا الگ الگ حساب ہوگا

آخر میں دونوں بلوں کا موازنہ کیا جائے گا


آسان مثال (عام آدمی کے لیے)

فرض کریں:

آپ نے گرڈ سے بجلی لی: 300 یونٹ × 60 روپے = 18,000 روپے

آپ نے سولر سے گرڈ کو بجلی دی: 300 یونٹ × 27 روپے = 8,100 روپے

نتیجہ: 18,000 – 8,100 = 9,900 روپے بل ادا کرنا پڑے گا

جبکہ نیٹ میٹرنگ میں یہی بل تقریباً صفر ہوتا تھا۔


کن صارفین پر نئی پالیسی لاگو ہوگی؟

یہ پالیسی صرف نئے سولر کنکشن/کنٹریکٹ لینے والوں پر لاگو ہوگی

جن صارفین کے پاس پہلے سے نیٹ میٹرنگ کا 7 سالہ کنٹریکٹ موجود ہے:

وہ کنٹریکٹ ختم ہونے تک پرانے نظام پر رہیں گے

کنٹریکٹ ایکسپائر ہونے کے بعد نئی نیٹ بلنگ پالیسی لاگو ہوگی


سب سے زیادہ نقصان کن کو ہوگا؟

جو دن میں کم اور رات میں زیادہ بجلی استعمال کرتے ہیں

جن کے پاس بیٹری یا ہائبرڈ سسٹم نہیں

جو مکمل طور پر گرڈ پر انحصار کرتے ہیں


کس کو پھر بھی فائدہ ہو سکتا ہے؟

جو دن کے وقت زیادہ بجلی استعمال کرتے ہیں

جن کے پاس بیٹری یا ہائبرڈ سولر سسٹم ہے

جو گرڈ سے بجلی کم لیتے ہیں


اب عام آدمی کو کیا کرنا چاہیے؟

نیا سولر لگوانے سے پہلے آن گرڈ سسٹم پر دوبارہ غور کریں

ہائبرڈ یا بیٹری سسٹم مستقبل میں زیادہ محفوظ ہو سکتا ہے

موجودہ سولر صارفین اپنے کنٹریکٹ کی مدت ضرور چیک کریں


حکومت کے اس فیصلے کے بعد سولر صارفین کو وہ فائدہ نہیں ملے گا جو نیٹ میٹرنگ میں مل رہا تھا۔ اب گرڈ سے بجلی مہنگی اور سولر سے بیچی جانے والی بجلی سستی ہوگی، جس سے بجلی کے بل دوبارہ آنا شروع ہو جائیں گے۔

یہ ایک بڑی پالیسی تبدیلی ہے جس کا اثر ہر اس شخص پر پڑے گا جو سولر سسٹم لگوانے کا ارادہ رکھتا ہے یا پہلے سے سولر استعمال کر رہا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں