معصوم بچیوں کے سامنے باپ قتل شبیر سہام کی رپورٹ

راولپنڈی(شبیرسہام سے)
تھانہ صدر بیرونی کی حدود ثمر زار کالونی میں تین کمسن بیٹیوں کے سامنے باپ کو انتہائی سفاکی سے قتل کرنے کے افسوسناک واقعہ کو 2 ہفتہ گزرنے کے باوجود پولیس کی تفتیش ایک انچ آگے نہ بڑھ سکی۔ واقعہ کی سی سی ٹی وی فوٹیجز منظر عام پر آنے اور ملزمان کے چہرے واضح دکھائی دینے کے باوجود پولیس کی روائتی سستی کی وجہ سے تاحال ملزمان ٹریس نہ ہوسکے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ یکم دسمبر کو دن دو بج کر چالیس منٹ پر راولپنڈی کے معروف کاروباری شخصیت اور پٹرولیم کے کاروباری سے منسلک 37 سالہ سردار محمد ارشاد خان کو اس وقت ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنایا گیا جب وہ اپنی تینوں کمسن بیٹیوں کو ڈبل کیبن گاڑی پر سکول سے گھر ڈراپ دے رہے تھے کہ گھر کے نزدیک پہنچتے ہی تعاقب میں آنے والے موٹر سائیکل سوار دو اجرتی قاتلوں نے ان پر اندھا دھند گولیاں برسا دیں۔ ذرائع کے مطابق مقتول ارشاد خان کی چھاتی پر پانچ گولیاں لگیں۔ معصوم بچیوں کے سامنے ان کے باپ کو قتل کیا گیا اور ملزمان موقع سے بآسانی فرار ہوگئے۔ واقعہ کی سی سی ٹی وی فوٹیجز میں ملزمان کو واضح طور پر دیکھا جاسکتا ہے۔ پولیس تھانہ صدر بیرونی نے دفعہ 302/109/34 کے تحت مقدمہ تو درج کرلیا لیکن یہ کیس بھی دیگر کیسز کی طرح پولیس کی سست روی کا شکار ہے۔ مقتول سردار ارشاد خان کا تعلق آزاد کشمیر سے تھا اور وہ ثمر زار کالونی راولپنڈی میں مقیم تھے اور پٹرول پمپ کے مالک تھے۔ ان کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ وہ انتہائی نفیس اور دلیر انسان تھے۔ اس دلخراش واقعہ پر راولپنڈی کی کاروباری شخصیات اور شہریوں میں شدید تشویش پائی جاتی ہے ۔ شہریوں نے آئی جی پنجاب، سی پی او اور آر پی او راولپنڈی سے ملزمان کو فوری طور پر گرفتار کرنے اور کیفر کردار تک پہنچانے کا مطالبہ کیا ہے۔