حسینہ عالم سے ملاقات/ تنویر حسین کا کالم

میں اپنے خیالوں میں گم فلک کو تاک رہا تھا کہ اسی اثناء میں بھینی بھینی سی خوشبو ہوا میں پھیلی مجھے محسوس ہوا کہ میرے ارد گرد کا ماحول کچھ تبدیل ہو گیا ہے میں نے دیکھا ایک خوبرو حسینہ زرق برق لباس پہنے میرے سامنے با ادب بیٹھی تھی میں اپنے ماحول میں اس یک لخت تبدیلی پر ناقابل بیان حیرت میں پڑ گیا بلا آخر میں نے سکوت کو توڑتے ہوئے پوچھا محترمہ آپ کو مجھ سے کچھ کام ہے اس پر اس نے اپنی لمبی لمبی پلکوں کو دائیں بائیں گھماتے ہوئے کہا پہلے تو آپ نے مجھے مخاطب درست الفاظ سے نہیں کیا میں کوئی محترمہ وترمرہ نہیں میرا نام حسینہ ہے چلیں چھوڑیں کوئی بات نہیں نام میں کیا رکھا ہے آپ مجھے کسی بھی نام سے پکار سکتے ہیں اس غیر متوقع جواب کے بعد میں نے دوسرا سوال داغا کہ آپ نے یہ نہیں بتایا کہ آپ کو مجھ سے کوئی کام ہے؟ حسینہ (بقول اسکے) ہلکا سا مسکرائی اور بولی بھلا مجھے آپ سے کیا کام ہو سکتا ہے میں تو یہ سن کر آپ کے پاس آئی ہوں کہ آپ لکھتے لکھاتے ہیں میں نے یہ بھی سنا ہے کہ آپ اشعار بھی کہتے ہیں میں نے کہا جی درست سنا ہے آپ فرمائیے حسینہ بولی مجھے یہ پوچھنا تھا کہ آپ نے کبھی اپنے کالم میں میرا ذکر کیا یا اشعار میں تذکرہ کیا میں نے کہا حسینہ آپ کیسی باتیں کررہی ہیں شاید آپ بھول رہی ہیں کہ میں آج پہلی بار آپ سے ملا ہوں میں بھلا آپ کا ذکر کیسے کرسکتا تھا۔اس نے کہا حیرت ہے آپ کیسے شاعر اور ادیب ہیں کہ آپ حسینہ سے ہی انجان ہیں میں اب اس کی بے تکی باتوں سے زچ ہونے لگا تھا میں نے کہا یہ ضروری نہیں کہ ہر شاعر کسی حسینہ سے بھی تعارف رکھے ۔اس نے جواباً کہا پھر میں اسے شاعر اور ادیب ہی نہیں سمجھتی مجھے لگا کہ اب اس خوبرو حسینہ نے ادبی نقاد کی نشست بھی اپنے نام کرلی ہے میں کہا چلیں خیر اس بحث کو چھوڑیں میں ابھی تک آپ کی تشریف آوری کی وجہ تسمیہ نہیں سمجھ پایا اس نے پھر اپنے اداؤں کا بے دریغ مظاہرہ کرتے ہوئے کہا دیکھیں میں چاہتی ہوں آپ ایک کالم مجھ پر لکھیں میری اداؤں اور حسن کی اپنے انداز سے تعریف کریں کیونکہ یہ صرف میری اپنی بارے میں سوچی سمجھی رائے نہیں بلکہ میرے سب جاننے والے مجھے حسینہ عالم کہتے ہیں خیر یہ تو آپ کو بھی محسوس ہو چکا ہوگا کہ اللہ نے مجھے کس حسن سے نوازا ہے میں نے کہا آپ بلاشبہ خوبرو ہیں لیکن حسینہ عالم کا ٹائٹل لینے کے لیے مقابلہ حسن میں شرکت ضروری ہے کیا آپ نے کبھی اس بارے کبھی سوچا اس ازخود حسینہ عالم نے کہا بھلا مجھے کسی مقابلے میں شریک ہونے کی کیا ضرورت ہے ویسے بھی میں سمجھتی ہوں کہ ایوارڈ اور ٹائٹل وزنی سفارش کے بغیر نہیں مل سکتے ہوں بھی ان ایوارڈ کی کوئی وقعت نہیں جو سفارش سے ملے ہوں لیکن میں جب بھی خود کو آئینے میں دیکھتی ہوں مجھے اپنا سراپا کسی حسینہ عالم سے کم نہیں محسوس ہوتا اور یہ تو آپ کو پتہ ہی ہوگا لوگ جھوٹ بول سکتے ہیں لیکن آئینہ نہیں۔میں اس حسینہ عالم کی اپنی وکالت میں بیان کئے گئے دلائل پر بات کر سکتا تھا لیکن
مجھے احساس ہوا کہ یہ سب بے سود ہوگا کیونکہ اس کا اپنے بارے میں خیال راسخ ہوچکا ہے اور وہ بلا مقابلہ حسینہ عالم بن چکی ہے ویسے اس کے رخصت ہونے کے بعد میرا یہ خیال پختہ ہوگیا کہ یہ صرف اس حسینہ عالم کا مسئلہ نہیں ہم سب کسی نہ کسی سطح پر سخت نرگسیت کا شکار ہیں اور اپنی دنیا سے باہر آنے والی کسی آواز کو سننا ہی نہیں چاہتے۔