ماؤں کے بچے مروا کر نام نہاد  واپس روانہ

پاک نبی کے نام پر لوگوں کے بچوں کو ورغلا کر اپنے مضموم مقاصد کو عملی جامہ پہنانے کے لیے کوئی نہ کوئی نام نہاد لیڈر اسلام اباد پر چڑھ دوڑتا ہے بے مقصد اور پرتشدد احتجاج میں نہ صرف شہریوں کی املاک کو نقصان پہنچایا جاتا ہے بلکہ کئی ماؤں کی گود اور کئی سہاگنوں کے سہاگ اجڑ جاتے ہیں لیکن جنونی تشدد پسند جنہیں احتجاج کے مقصد کا بھی پتہ نہیں ہوتا ہے نبی پاک کے نعرے لگاتے ہوئے اپنوں پر ہی چڑھ دوڑتے ہیں ہیں بقول ٹی ایل پی کے ان کے 12 سے زائد لوگ موجودہ احتجاج میں جان سے چلے گئے ہیں لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس احتجاج کا مقصد کیا تھا غزہ پر گزشتہ دو سالوں سے جاری جنگ کے خلاف دنیا بھر میں مظاہرے ہوئے لیکن یہ مولانا صاحب سوئے رہے اور جب فلسطینیوں کے خلاف جنگ بندی ہو گئی جس کا فلسطین سمیت پوری دنیا میں جشن منایا جا رہا ہے اور شکرانہ ادا کیا جا رہا ہے تو ایسے میں تحریک لبیک کے نام نہاد لیڈروں نے اپنے ہی ملک میں غیر اعلانیہ جنگ چھیڑ دی چار دن پورے ملک کو جام کیے رکھا اور پھر ایک ہی کال پر دم دبا کر بھاگ گئے موجودہ حالات میں جہاں ایک طرف ملک حالت جنگ میں ہے ایسے میں بے مقصد احتجاج کو پاکستان کسی بھی صورت برداشت کرنے کا متحمل نہیں ہو سکتا بے مقصد ایسے احتجاج میں شرکت کرنے والے نوجوانوں تھوڑا نہیں پورا سوچو

اپنا تبصرہ بھیجیں