بہادر ایمان مزاری اور اس کا شوہر روپوش بولتی بند

ایمان مزاری گرفتاری کے ڈر سے مفرور ۔ پولیس کے مسلسل چھاپے لیکن ایمان مزاری کا سراغ نہ مل سکا۔ایک عرصے تک پاکستان کے ریاستی اداروں، قومی سلامتی، اور فوج کے خلاف مسلسل زہر افشانی کرنے والی ایمان مزاری، اب خود قانون کے شکنجے سے بچنے کے لیے روپوش ہو چکی ہیں۔ نہ کوئی بیان، نہ کوئی احتجاج، نہ ہی ایکس پر کوئی آواز بس مکمل خاموشی۔ یہ وہی ایمان مزاری ہے جو BLA اور BYC جیسے عناصر کی پشت پناہی میں سوشل میڈیا پر فرنٹ لائن پر تھی، لیکن آج جب ریاست نے ثبوت مانگے تو وہ ٹویٹر چھوڑ کر بھاگ گئی۔

ستمبر 2025 میں اسلام آباد کی مقامی عدالت نے ایمان مزاری اور ان کے شوہر عبدالہادی علی چٹھہ کے خلاف غیر ضمانتی وارنٹ گرفتاری جاری کیے۔ دونوں نے سوشل میڈیا پر ایسی متنازعہ ٹویٹس کیں جن میں ریاستی اداروں کو لاپتہ افراد کے الزامات میں ملوث قرار دیا گیا، اور نسلی منافرت کو ہوا دی گئی۔ نیشنل سائبر کرائم انویسٹیگیشن ایجنسی (NCCIA) نے یہ کیس PECA قانون کے تحت درج کیا، اور عدالت نے 24 ستمبر 2025 کو دونوں کو پیش کرنے کا حکم دیا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ ایمان مزاری 19 ستمبر 2025 تک عدلیہ، انسانی حقوق، اور خواتین کی آزادی جیسے موضوعات پر “ایکس” پر سرگرم تھیں، لیکن وارنٹس جاری ہوتے ہی وہ اچانک منظر سے غائب ہو گئیں۔ اب اطلاعات کے مطابق پولیس ان کے گھروں پر چھاپے مار رہی ہے، اور دونوں نے رضاکارانہ روپوشی اختیار کرلی ہے۔ کیا یہی وہ بہادری ہے جس کا پرچار ایمان مزاری اپنی تقاریر اور ٹویٹس میں کرتی تھیں

اپنا تبصرہ بھیجیں