امریکی اور ایرانی طیاروں کے درمیان دلچسپ مکالمہ بہزاد سلیمی کی خصوصی تحریر

اسلام اباد(بہزاد سلیمی) انائب امریکی صدر جے ڈی وینس اور ایران کے وزیرخارجہ عباس عراقچی کو لانے والے طیارے نورخان ایئربیس کی خاموش فضا میں ایک دوسرے کے قریب کھڑے ہیں۔یہ فضا بھی ایک نئے آغاز کی گواہی دے رہی ہو۔ ایک روشن اور خوشگوار دن میں ٹھنڈی ہوا کے جھونکوں میں امریکی اور ایرانی طیارے آپس میں محو کلام ہیں

امریکی طیارہ (نرم لہجے میں) ✈️
آج پہلی بار سکون محسوس ہو رہا ہے… ورنہ ہم تو ہمیشہ شور، کشیدگی اور بے یقینی کے سائے میں اڑتے رہے ہیں۔

ایرانی طیارہ (گہری سانس لیتے ہوئے) 🛩️
سچ کہا تم نے… ہمارے اوپر سے گزرنے والے جنگی جہازوں کی گھن گرج اب بھی کانوں میں گونجتی ہے۔ وہ آگ، وہ دھواں… جیسے انسانیت کہیں پیچھے رہ گئی ہو۔

امریکی طیارہ ✈️
لیکن آج دیکھو… ہم یہاں ایک ساتھ کھڑے ہیں، ایک ایسی سرزمین پر جو امن کی بات کرتی ہے۔ پاکستان نے واقعی ایک پل کا کردار ادا کیا ہے۔

ایرانی طیارہ (فخر سے) 🛩️
یہی تو اصل طاقت ہے… نہ ہتھیار، نہ دھمکیاں… بلکہ مکالمہ، برداشت اور امید۔ اسلام آباد نے ہمیں یاد دلایا ہے کہ جنگ کا اختتام ہمیشہ بات چیت پر ہی ہوتا ہے۔

امریکی طیارہ ✈️
کاش ہمارے اوپر سے گزرنے والے وہ جنگی جہاز بھی یہ منظر دیکھ پاتے… کہ اصل فتح تب ہوتی ہے جب کوئی گولی نہ چلے۔

ایرانی طیارہ 🛩️
اور اصل کامیابی وہ ہوتی ہے جب مائیں اپنے بچوں کو خوف کے بغیر سلا سکیں… جب شہر دوبارہ سانس لینے لگیں۔

امریکی طیارہ (مسکراتے ہوئے):✈️
آج ہم صرف مسافروں کو نہیں، بلکہ امید کو لے کر آئے ہیں۔ شاید یہی “اسلام آباد مذاکرات” کی اصل کامیابی ہے۔

ایرانی طیارہ:🛩️
ہاں… اور یہ آغاز ہے ایک مستقل جنگ بندی کا، ایک بہتر دنیا کا… جہاں اختلاف ہو، مگر دشمنی نہ ہو۔

ہوا میں ایک ہلکی سی سرگوشی گونجی، جیسے نورخان ایئربیس خود کہہ رہا ہو:
“یہ سرزمین ہمیشہ امن کی گواہ رہے گی…”

دونوں طیارے خاموشی سے کھڑے تھے، مگر ان کی خاموشی میں ایک پیغام تھا— امن ہی اصل طاقت ہے، اور پاکستان اس طاقت کا خوبصورت مظہر۔

اپنا تبصرہ بھیجیں