کمیشن مافیا نےشہر کا بیڑہ غرق کردیا

ننکانہ صاحب بیورورپورٹ)ٹھیکیدار اور انجینئرز کی ناقص حکمت عملی انٹرنیشنل سٹی ننکانہ صاحب گٹروں کے گندے پانی میں ڈوب کر رہ گیا شہر کی گلیاں اور سڑکوں پر کھڑا گٹوں کا گندا پانی شہریوں اور نمازیوں کا منہ چڑا رہا ہے ذرائع کے مطابق مبینہ طور پر ٹھیکیدار نے چھ ارب کے ٹھیکے میں انتہائی ناقص سیمنٹ سے تیار شدہ پائپ استعمال کیے ہیں جبکہ اج کل تمام ادارے پلاسٹک کے پائپ استعمال کر رہے ہیں جو کہ نہ صرف مضبوط ہوتے ہیں بلکہ دیر پا بھی ہوتے ہیں شہریوں نے اسلام اباد ٹوڈے کے نمائندے کو بتایا کہ شہر کی گلیوں اور سڑکوں میں گندا پانی کھڑا ہونے کی وجہ سے وہ اس مرتبہ عید بھی نہیں پڑھنے جا سکے اور ان دنوں بھی اکثر نمازی گھروں میں ہی نماز پڑھنے کو ترجیح دے رہے ہیں ذرائع کے مطابق ذرائع کے مطابق اس ٹھیکے کی نگرانی کرنے والے ایس ڈی او ایکسین اور اوورسیر سمیت تمام متعلقہ افسران پہلے ہی اپنی کمیشن وصول کر چکے ہیں اس حوالے سے کئی ماہرین اور انجینیئر سے بھی بات ہوئی ہے جنہوں نے بتایا ہے کہ اس سے قبل جو سیورج پائپ لائن بچھی ہوئی تھی وہ بالکل درست حالت تھی اور کہیں سے بھی خراب نہیں تھی پہلے سے بچھی سیوریج پائپ لائن 36 انچ اور 42 انچ پر مشتمل تھی جبکہ اب جو پائپ لائن بچھائی جا رہی ہے وہ 30 انچ کے قطر والی ہے جو کہ انتہائی کم ہے ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ جہاں حکومت ایک طرف کفایت شعاری کی مہم چلا رہی ہے تو دوسری طرف اچھے بھلے ٹھیک ٹھاک منصوبوں کو توڑ پھوڑ کے قوم کا اربوں روپے ضائع کیا جا رہا ہے اس حوالے سے مقامی صحافیوں اور شہریوں نے بھی بتایا کہ اس شہر کو نئے سیوریج منصوبے کی ضرورت ہرگز نہ تھی لیکن چند کرپٹ افسران حکومت پنجاب کی طرف سے ماڈل سٹی ننکانہ کے قیام کے لیے دیے گئے فنڈز کو خرد برد کرنے کے لیے بنے بنائے منصوبوں کو دوبارہ نئے سرے سے شروع کر رہی ہے جس کی ضرورت ہی نہیں تھی ننکانہ کے شہریوں نے وزیراعلی پنجاب مریم نواز سے اپیل کی ہے کہ وہ ننکانہ صاحب میں اربوں روپے سے جاری سیورج منصوبے کوشفاف جامع اور دیرپا بنانے کے لیے نوٹس لیں