چھ ارب کا منصوبہ اور ناقص مٹیریل

ننکانہ صاحب میں 6 ارب کے سیوریج منصوبے کا آغاز، ناقص کام پر شہریوں میں تشویش
ننکانہ صاحب (شاہین اقبال غیور ایڈووکیٹ):شہر بھر میں تقریباً 6 ارب روپے کی لاگت سے نئے سیوریج سسٹم کی تنصیب کا باقاعدہ آغاز کر دیا گیا ہے۔ ابتدائی مرحلے میں مرکزی شاہراہ ریلوے روڈ پر انار کلی چوک سے پائپ لائن بچھانے کا کام شروع کیا گیا، تاہم آغاز ہی میں مبینہ غفلت اور ناقص حکمتِ عملی سامنے آ گئی۔
عینی شاہدین کے مطابق کھدائی کے دوران تقریباً تیس سال پرانا سیوریج پائپ ٹوٹ گیا، جس کے نتیجے میں نئی بچھائی جانے والی لائن کے نیچے گندا پانی جمع ہونا شروع ہو گیا۔ الزام ہے کہ ٹھیکیدار نے فوری اور مستقل مرمت کے بجائے عارضی طور پر پائپ کے سوراخ میں کپڑا ٹھونس کر پانی روک کر اوپر مٹی ڈال دی ہے، جو کسی بڑے نقصان کا پیش خیمہ بن سکتی ہے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ انار کلی بازار سے ڈی پی ایس چوک تک بچھائی جانے والی نئی پائپ لائن کے لیے معیاری ریت یا کسو والی مٹی استعمال کرنے کے بجائے سڑک کی کھودی گئی مٹی دوبارہ نئے پائپوں پر ڈالی جا رہی ہے، جس سے سڑک کے جلد بیٹھنے اور انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔
مزید برآں، سیوریج پائپوں کا قطر بھی تنقید کی زد میں ہے۔ مقامی افراد کے مطابق 3 فٹ قطر کے پائپ مستقبل کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے ناکافی ہیں، جبکہ ماہرین 5 فٹ قطر کی تجویز دیتے ہیں تاکہ شہر کے بڑھتے ہوئے سیوریج لوڈ کو بآسانی برداشت کیا جا سکے اور نکاسی آب میں رکاوٹ پیدا نہ ہو۔
اہلِ علاقہ نے ڈپٹی کمشنر ننکانہ صاحب تسلیم اختر راؤ سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر ابتدائی مرحلے میں ہی معیار پر سمجھوتہ کیا گیا تو یہ اربوں روپے کا منصوبہ بھی ماضی کی طرح مسائل کا حل بننے کے بجائے ایک نئی پریشانی میں تبدیل ہو سکتا ہے۔
شہری حلقوں نے متعلقہ حکام سے شفاف نگرانی، معیاری میٹریل کے استعمال اور تکنیکی اصولوں کی پابندی یقینی بنانے کی اپیل کی ہے تاکہ شہر کو دیرپا اور مؤثر سیوریج نظام میسر آ سکے۔
islamabad today