سرکاری ادارے بحران کے دہانے پر


2.1 کھرب روپے کے بیل آؤٹ کے باوجود نقصانات میں 300 فیصد اضافہ، آئی ایم ایف نے گورننس کی سنگین ناکامی کی نشاندہی کر دی

رانا تصدق حسین

اسلام آباد: پاکستان کے سرکاری ادارے (SOEs) شدید مالی اور انتظامی بحران کا شکار ہیں، جہاں مالی سال 2024–25 کے دوران مجموعی نقصانات میں تقریباً 300 فیصد اضافہ رپورٹ ہوا ہے، حالانکہ وفاقی حکومت نے 2.1 کھرب روپے کا تاریخی مالیاتی پیکج فراہم کیا تھا۔
یہ تشویشناک صورتحال بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (IMF) کے بھی نوٹس میں آ گئی ہے، جس نے سرکاری اداروں میں گورننس کی ناکامی، ادارہ جاتی کمزوری اور مسلسل سیاسی مداخلت کو اصلاحات میں سب سے بڑی رکاوٹ قرار دیا ہے۔
توانائی کے شعبے میں بحران: GENCOs اور DISCOs زوال کا شکار
بحران کی شدت سب سے زیادہ توانائی کے شعبے میں محسوس کی جا رہی ہے، جہاں سرکاری جنریشن کمپنیاں (GENCOs I تا IV) اور مختلف ڈسٹری بیوشن کمپنیاں (DISCOs) پاکستان الیکٹرک پاور کمپنی کے تحت کام کر رہی ہیں۔
ان اداروں کے بنیادی مسائل میں شامل ہیں:
تنصیبی پیداواری صلاحیت کا شدید کم استعمال
پرانا اور غیر مؤثر انفراسٹرکچر، جس سے پیداواری لاگت میں اضافہ
گردشی قرضوں میں اضافہ اور مسلسل مالی امداد پر انحصار
کمزور گورننس کی وجہ سے آپریشنل ناکامی
انتظامی عدم استحکام کی وجہ سے بحران میں شدت آئی ہے، کیونکہ زیادہ تر ادارے:
عبوری یا قائم مقام قیادت کے زیر انتظام ہیں
عام سول سروسز کے ڈیپوٹیشن افسران، جنہیں شعبہ جاتی مہارت حاصل نہیں، تعینات کیے گئے ہیں
بار بار تبادلے کیے جاتے ہیں، جس سے تسلسل اور طویل المدتی منصوبہ بندی متاثر ہوتی ہے
ترسیل و تقسیم کے شعبے میں مسائل: بڑھتے نقصانات اور عدم احتساب
اہم ترسیلی اور تقسیم کار ادارے، جن میں نیشنل ٹرانسمیشن اینڈ ڈسپیچ کمپنی (NTDC) اور علاقائی DISCOs جیسے لاہور، پشاور، حیدرآباد اور سکھر شامل ہیں، درج ذیل مسائل کا سامنا کر رہے ہیں:
مسلسل بڑھتے ہوئے ٹرانسمیشن اور ڈسٹری بیوشن نقصانات
بجلی چوری کی بلند شرح
کمزور وصولی اور ریکوری میکانزم
فیصلے سیاسی اور انتظامی دباؤ کے تحت کیے جا رہے ہیں
قیادت میں عدم استحکام اور تکنیکی مہارت کی کمی نے کارکردگی کو مزید متاثر کیا ہے، جس سے احتسابی نظام پر سنگین سوالات اٹھ رہے ہیں۔
دیگر شعبوں میں بھی گورننس کا زوال
یہ بحران صرف توانائی تک محدود نہیں بلکہ دیگر اہم سرکاری اداروں میں بھی دیکھا جا رہا ہے:
پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن (PIA) مسلسل خسارے میں، نجکاری کم قیمت پر ہونے کے خدشات کے باوجود
پاکستان اسٹیل ملز بند ہونے کے باوجود قومی خزانے پر بوجھ ڈال رہی ہیں
پاکستان اسٹیٹ آئل (PSO) گردشی قرضوں اور تاخیر سے واجبات کی ادائیگی میں پھنسی ہوئی
آئل اینڈ گیس ڈیولپمنٹ کمپنی (OGDCL) نسبتا مستحکم مگر پالیسی مداخلت کے باعث محدود کارکردگی
نیشنل ہائی وے اتھارٹی (NHA): پوشیدہ مالی بوجھ اور وزارتی مداخلت
NHA ایک پیچیدہ اور تشویشناک کیس کے طور پر سامنے آئی ہے، جہاں مالی حقائق کو مسخ کرنے اور ادارے پر غیر متعلقہ ذمہ داریاں ڈالنے کے الزامات ہیں۔
اہم نکات میں شامل ہیں:
میچنگ گرانٹ کی ادائیگی
NHA کی یقینی آمدنی میں سے NH&MP کو حصہ منتقل کرنا
روڈ فنڈز کا استعمال NH&MP کے اخراجات، انفراسٹرکچر اور لاجسٹکس کے لیے
کرایہ اور دیگر واجبات کی عدم وصولی
سڑکوں کی دیکھ بھال کے فنڈز کا غیر متعلقہ ادارے پر خرچ
وزارتی اور انتظامی کردار پر بھی سوالات ہیں، خصوصاً:
RMA فنڈز کا مبینہ غیر قانونی استعمال
قومی شاہراہوں اور موٹرویز کی ضروری مرمت کی معطلی
ادارہ جاتی مشاورت کے بغیر پالیسی فیصلے
NHA وسائل کا غیر متعلقہ منصوبوں میں استعمال
مزید خدشات:
کنسیشن کمپنیوں سے واجبات کی عدم وصولی
ٹول پلازہ آپریشنز میں مبینہ میگا کرپشن اسکینڈل
ٹول ریٹس میں 500 فیصد تک اضافہ، تاکہ مصنوعی آمدنی ظاہر کی جا سکے
یہ تمام عوامل وزارتی مداخلت اور انتظامی ملی بھگت کی نشاندہی کرتے ہیں، جو شفافیت اور قانونی تقاضوں کے منافی ہیں۔
آزادانہ فرانزک آڈٹ کی ضرورت
صورتحال کے پیش نظر فوری طور پر ایک آزادانہ فرانزک آڈٹ ضروری ہے تاکہ:
مالی بے ضابطگیوں اور بوجھ کی منتقلی کا تعین کیا جا سکے
قانونی تقاضوں کی پاسداری کا جائزہ لیا جا سکے
ذمہ دار افراد کے کردار کا تعین ہو سکے
تقرریاں اور گورننس: ادارہ جاتی خودمختاری کی کمی
اگرچہ تقرریاں کابینہ کمیٹی برائے SOEs کے ذریعے کی جاتی ہیں، جس کی سربراہی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کرتے ہیں، مگر:
حتمی فیصلے ایگزیکٹو صوابدید کے تحت
بورڈز سیاسی اثر و رسوخ کے تحت
ادارہ جاتی خودمختاری متاثر
SOE ایکٹ کی خلاف ورزیاں
SOE ایکٹ کے تحت:
آزاد اور پیشہ ور بورڈز
میرٹ پر مبنی CEO تقرریاں
سیاسی مداخلت سے پاک خودمختاری
عملی صورتحال:
تقرریاں غیر شفاف
مدت ملازمت غیر یقینی
بورڈز غیر مؤثر
آئی ایم ایف کا موقف: اصلاحات تعطل کا شکار
آئی ایم ایف نے واضح کیا ہے کہ:
SOEs پر مزید مرکزیت قبول نہیں
خودمختار گورننس اور پیشہ ورانہ انتظام ضروری
آئندہ مالی معاونت اصلاحات سے مشروط ہوگی
نتیجہ: فوری اصلاحات کے بغیر مالی بوجھ بڑھتا رہے گا
پاکستان کے سرکاری ادارے اب ایک بڑے گورننس بحران کی علامت بن چکے ہیں:
ریکارڈ مالی معاونت کے باوجود نقصانات میں اضافہ
ساختی مسائل برقرار
سیاسی مداخلت میں اضافہ
یہ بحران محض نااہلی نہیں بلکہ گورننس کے مکمل انہدام کی عکاسی کرتا ہے، جہاں ادارے پر کنٹرول نے قابلیت کی جگہ لے لی ہے اور حقیقی اصلاحات بدستور ناپید ہیں۔
اگر آپ چاہیں تو میں اس کا اردو نیوزپیپر کے لیے تیار شدہ فائنل لی آؤٹ ورژن بھی بنا دوں، جس میں ہر سب ہیڈنگ کے ساتھ بلیٹ پوائنٹس، بولڈنگ، اور قاری کے لیے آسان ریڈ ایبل فارمیٹ دیا جائے تاکہ شائع کے بعد قارئین فوراً اہم نکات سمجھ سکیں۔
کیا میں وہ ویژن بھی بنا دوں؟

اپنا تبصرہ بھیجیں