ٹرین کی بوگیاں پٹڑی سے اترنا معمول

ڈویژنل انجینیئر راولپنڈی کی غفلت یا ڈویژنل سپریڈنٹ ریلوے کی ناقص سپرویژن ۔

ٹرین بوگیوں کا پٹڑی سے اتر جانا معمول بن گیا ۔

راولپنڈی (کرائم رپورٹر ) گزشتہ رات حویلیاں سے راولپنڈی انے
والی ایک اور ٹرین ڈویژنل انجینیئر راولپنڈی کی غفلت کے باعث ٹیکسلا ٹنل میں ڈی ریل ہو گئی تفصیلات کے مطابق ٹرین رات ساڑھے نو اور 10 بجے کے قریب جب ٹیکسلا ٹنل سے گزر رہی تھی تو ایک بوگی ڈی ریل ہو گئی جس کی وجہ سے ہزاروں مسافروں کو رات کو بچوں سمیت انتہائی پریشانی کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ ریلوے کے پاس بٹھائے گئے مسافروں کو لیے گے کرائے کے باوجود کوئی بھی سہولت فراہم نہ کی گئی جس کے باعث مسافروں کو مین روڈ تک پہنچنے میں انتہائی پریشانی کا سامنا کرنا پڑا لٹ جانے کے خوف سے انتہائی ذہنی اذیت کا شکار بھی رہے مسافروں کا کہنا ہے کہ جب وہ مشکل سے بچوں سمیت مین روڈ تک پہنچے تو حکومت کی طرف سے چلائی گئی گرین بس بھی ان کے کام نہ ائی اور رات کے اس ویرانے میں اس بس کے ڈرائیور نے مسافروں کو بٹھانے سے انکار کر دیا جب کہ وہ خالی تھی مسافروں کا کہنا تھا کہ یہ بس یہاں ائی کیوں اور خالی جب جا رہی تھی تو مسافروں کو بٹھایا کیوں نہیں جبکہ اس بس سروس کو بنایا ہی مسافروں کی سہولت کے لیے ہے تو پھر ڈیوٹی پر موجود شخص نے مسافروں کو بٹھانے سے ڈرائیور کو روکا کیوں مسافروں کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے مسافروں کو نہ بٹھانے کے لیے کہنے والے ملازم کی غیر ذمہ داری کے خلاف فوری نوٹس لیا جائے اور اس کے خلاف محکمانہ کاروائی عمل میں لائی جائے ۔اور ریلوے احکام نے جو کرایہ مسافروں سے لیا گیا تھا وہ فل فور واپس کرے ۔ ایک مسافر کا کہنا تھا کہ اگر ایسا ہوا تھا تو مسافروں کو منزل مقصود تک پہنچانا ریلوے کا کام تھا جو اس نے نہ کر کے مسافروں کے ساتھ سخت زیادتی کی ہے جس کی وجہ سے بچوں بوڑھوں اور نوجوانوں کو سخت ذہنی اذیت کا سامنا کرنا پڑا ۔ مسافروں کا کہنا تھا کہ ریلوے پٹھڑیوں کی دیکھ بھال کے لیے ڈویژنل انجینیئر کا ہونا نہ ہونا ایک برابر دیکھنے میں ا رہا ہے اگر وہ پٹھڑی کو ٹھیک نہیں کر سکتے تو پھر اس سیٹ کا کیا فائدہ اس حوالے سے ڈویژنل سپریٹینڈ سے ٹیلیفونک رابطہ کیا گیا تو انہوں نے بتایا کہ کسی مسافر کو نہیں اتارا گیا اور ٹریک کو 10 سے 15 منٹ میں کلیئر کر دیا گیا تھا جبکہ ایک حسیب نامی مسافر کا کہنا تھا کہ فیصل ہل کے سامنے ڈھائی سے 300 افراد جو ٹرین میں سفر کر رہے تھے وہ پھر کہاں سے اگئے ہمیں ریلوے پولیس نے کہا کہ اپ یہاں اتر جائیں ٹرین کلیئر ہونے میں کافی ٹائم لگ جائے گا ریلوے ڈویژنل سپریڈنٹ کو مس گائیڈ کیا گیا ہے اور ان سے حقائق کو چھپایا گیا ہے ڈویژنل سپریڈنٹ راولپنڈی اس وقت موجود ڈیوٹی پر ٹریفک اہلکاروں سے بازپوس کر سکتے ہیں کہ ڈھائی سے 300 لوگ ریلوے ٹرین سے اتر کر مین روڈ پر ائے تھے جن کے لیے انہوں نے گاڑیاں روکی تھیں مسافر کا کہنا تھا کہ یا تو ڈویژنل سپریڈنٹ اپنے نااہل عملے کو پروٹیکشن دے رہے ہیں یا پھر ان سے حقائق کو چھپایا گیا ہے دونوں صورتوں میں حقائق کو سامنے لانے کے اختیارات ان کے پاس موجود ہیں مسافر کا کہنا تھا کہ ہم نے ون فا پر بھی کال کیا جہاں سے کوئی رسپانس نہ ملا ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں