تھانہ سنبل پولیس زمینوں پر قبضے کروانے لگی

اسلام أباد:(کرائم رپورٹر)
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے سیکٹر جی-13 میں زمین پر مبینہ قبضے کا ایک سنگین معاملہ سامنے آیا ہے، جہاں ایک متاثرہ شہری نے الزام عائد کیا ہے کہ اس کی ملکیتی زمین پر راتوں رات قبضہ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
شہری کے مطابق یہ تمام کارروائی تھانہ سنبل کی حدود میں ہو رہی ہے اور اس میں متعلقہ پولیس اہلکاروں کی مبینہ ملی بھگت بھی شامل ہے۔ متاثرہ شخص نے دعویٰ کیا کہ تھانہ سنبل کے ایس ایچ او اور تفتیشی افسر سب انسپکٹر ضمیر الحسن نے موقع پر موجود افراد کو حراست میں لینے کے بعد مبینہ طور پر رقم وصول کر کے چھوڑ دیا۔
متاثرہ شہری نے مزید الزام لگایا کہ پولیس کی جانب سے اسے مسلسل ہراساں کیا جا رہا ہے اور اس کے خلاف جھوٹے مقدمات درج کرنے کی دھمکیاں بھی دی جا رہی ہیں، جس سے وہ شدید خوف و ہراس کا شکار ہے۔
رپورٹ کے مطابق اس تنازع میں شہری کے کچھ قریبی رشتہ دار بھی مبینہ طور پر قبضہ مافیا کے ساتھ شامل ہیں، جو عبدالسعید نامی شخص کے ساتھ مل کر نہ صرف زمین پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں بلکہ متاثرہ شہری اور اس کے بچوں کو جان سے مارنے کی سازش بھی کر رہے ہیں۔
متاثرہ فرد نے اسلام آباد پولیس کے اعلیٰ حکام، خصوصاً انسپکٹر جنرل پولیس اسلام آباد اور وفاقی وزیر داخلہ سے فوری نوٹس لینے کی اپیل کی ہے۔ اس نے مطالبہ کیا ہے کہ قبضہ مافیا کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے، اس کی زمین کو واگزار کروایا جائے اور اسے اور اس کے اہلِ خانہ کو مکمل تحفظ فراہم کیا جائے۔
شہری کا کہنا ہے کہ وہ جلد اعلیٰ حکام کے سامنے پیش ہو کر تمام ملوث افراد کے نام اور شواہد فراہم کرے گا تاکہ انصاف کے تقاضے پورے کیے جا سکیں

islamabad today

اپنا تبصرہ بھیجیں