تھانے دار شاہد خان کیس اصل کہانی سامنے اگئی

اسلام آباد:(ظفر ملک ) اے ایس آئی شاہد خان کی گرفتاری کا معاملہ، پسِ پردہ کہانی سامنے آگئی
اسلام آباد میں اے ایس آئی شاہد خان کی گرفتاری نے کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں، جبکہ متاثرہ فیملی، پولیس افسر کی فیملی اور اہلِ علاقہ کے بیانات کے بعد کیس کے مختلف پہلو سامنے آنے لگے ہیں۔
ذرائع کے مطابق، اس معاملے کی جڑ ایک مبینہ مالی تنازع ہے جس میں جمشید نامی شخص، جو شہریوں کو بیرونِ ملک بھجوانے کا کاروبار کرتا تھا، مرکزی کردار کے طور پر سامنے آیا ہے۔ متاثرہ خاندان کے مطابق جمشید نے شاہد خان کے والد سے یورپ بھجوانے کے نام پر تقریباً 50 لاکھ روپے وصول کیے، تاہم نہ تو انہیں بیرونِ ملک بھجوایا گیا اور نہ ہی رقم واپس کی گئی۔
اہلِ خانہ کا کہنا ہے کہ اس معاملے پر دونوں فریقین کے درمیان گزشتہ ڈیڑھ سال سے تنازع جاری تھا، لیکن جمشید مسلسل ٹال مٹول سے کام لے رہا تھا۔ مزید یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ مذکورہ شخص نے دیگر کئی خاندانوں کو بھی اسی طرح مبینہ طور پر دھوکہ دے رکھا ہے۔
دوسری جانب، شاہد خان کے اہلِ خانہ اور اہلِ علاقہ کا موقف ہے کہ پولیس افسر نے قانونی راستہ اختیار کرنے کے بجائے مقامی پولیس سے رجوع کیا اور ایف آئی آر درج کروائی، حالانکہ اس نوعیت کے کیسز عام طور پر ایف آئی اے کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں۔ ان کے مطابق یہی اقدام بعد ازاں ان کے خلاف قانونی پیچیدگیوں کا سبب بنا۔
ادھر، شاہد خان کے خلاف درج کی گئی ایف آئی آر کو بھی ان کے خاندان نے حقائق کے منافی قرار دیتے ہوئے شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ اہلِ علاقہ کا کہنا ہے کہ مکمل تحقیقات کے بغیر گرفتاری نے مزید شکوک و شبہات کو جنم دیا ہے۔
متاثرہ فیملی نے حکام سے اپیل کی ہے کہ جمشید نامی شخص کے خلاف بھی کارروائی کی جائے اور دیگر متاثرین کو انصاف فراہم کیا جائے، جبکہ شاہد خان کے اہلِ خانہ نے بھی غیر جانبدارانہ انکوائری کا مطالبہ کیا ہے تاکہ اصل حقائق سامنے آ سکیں۔
یہ کیس اب ایک پیچیدہ رخ اختیار کر چکا ہے، جس میں مالی فراڈ، قانونی طریقہ کار کی خلاف ورزی اور ممکنہ غلط فہمیوں کے پہلو شامل ہیں، اور عوامی حلقے اس کے شفاف حل کے منتظر ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں