اسلام اباد میں سرکاری نوکریوں پر بھرتی کا حکم

اسلام آباد ہائیکورٹ
اسلام آباد میں پولیس،صحت اور دیگر اداروں میں کوٹہ سسٹم پر بھرتی کیس میں بڑی پیش رفت
اسلام آباد ہائیکورٹ کے لارجر بینچ نے پولیس سمیت دیگر بھرتیوں پر پابندی کا حکم امتناع واپس لے لیا
اسلام آباد ہائیکورٹ نے پرانے کوٹہ سسٹم کے مطابق ہی اسلام آباد میں پولیس سمیت دیگر بھرتیاں کرنے کا حکم دے دیا
چیف جسٹس سرفراز ڈوگر کی سربراہی میں تین رکنی لارجر بنچ نےدرخواستوں پر سماعت کی
2024 سے اب تک بھرتیاں روکی ہوئی ہیں، چیف جسٹس
جس وجہ سے بھی رکی ہوئیں لوگوں کو نوکریاں نہیں مل رہیں، چیف جسٹس
وفْاق بنا تو ملک بھر سے آکر۔لوگوں نے آبادکیا چیف جسٹس
دوسری جگہوں سے آنے والوں کا حق نہیں کیا، چیف جسٹس
آپ نے اسلام آباد میں کوٹہ لینا یا پورے پاکستان میں، اسلام آباد میں پچاس فیصد کوٹہ آپ کو مل رہاہے کیا، چیف جسٹس
آپ اسلام آباد کیلئے سہولت مانگ رہے لیکن اسلام آباد دیگر صوبوں کی طرح صوبہ نہیں ہے، چیف جسٹس
ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد شوکت ایاز، وفاقی پولیس کے ڈائریکٹر لاء طاہر کاظم، ڈی ایس پی لیگل ساجدچیمہ عدالت پیش
ایک زیر التواء درخواست اور ایک پٹیشن ہے، استدعا ہے سب کو یکجا کرلیں، ایڈووکیٹ جنرل
میری ایک استدعاتھی ،دلائل بھی ہوچکے، تین رکنی لارجر بنچ تھا، وکیل درخواست گزار
اسی بنچ میں کیس لگ جاتاتو اچھا تھا، وکیل درخواست گزار
وفاقی اوت وفاق کے اداروں کے علاوہ صوبوں میں کوٹہ کو چیلنج کیاہے، وکیل
اس میں جوڈیشل ادارے، ہائیکورٹ اور ڈسٹرکٹ کورٹس بھی شامل ہیں، وکیل
عدالتی ہدایت پر وکیل درخواستگزار نے درخواست میں استدعا پڑھی
اسلام آبادکے شہری کو یہ حق حاصل نہیں ہے پنجاب پولیس میں صرف ڈومیسائل ہوناچاہیے، لیکن اسلام آباد میں دوسرے صوبوں سے بھی بھرتی ہے، وکیل
اسلام آباد کی صوبائی سروس جو بنے گی اس میں اسلام آباد ڈومیسائل والوں کو بھی حق دیاجائے، وکیل
اگر اسلام آبادکے شہریوں۔کو انسان سمجھیں گے تو ان کے حقوق ہیں، وکیل
پنجاب میں بلدیاتی الیکشن ہوئے اسلام آبادمیں نہیں تھے، وکیل
ہنجاب کے شہریوں کے ہاس۔موجود رائیٹس اسلام آباد کے شہریوں کے پاس نہیں تو یہ خلاف ورزی ہے، وکیل
میرے کچھ اعتراضات ہیں، وہ پڑھ دیتاہوں، ایڈووکیٹ جنرل
کوٹہ کسی بھی صوبے کا ہو یا صرف اسلام آباد کا، ایڈووکیٹ جنرل
ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد کا مختلف عدالتی فیصلوں کا حوالہ
اس سے چاروں صوبوں کے عوام متاثر ہوں گے، ایڈووکیٹ جنرل
اسلام آباد ہائی کورٹ اگر فیصلہ دیتی تو حدود سےتجاوز ہوگا، ایڈووکیٹ جنرل
یہ سپریم کورٹ کا دائرہ اختیار ہے، ایڈووکیٹ جنرل
ہماری بات صوبوں سے متعلق نہیں صرف اسلام آباد ڈومیسائل والوں کی یے واجد گیلانی
اب اسلام آباد ہائیکورٹ کی حد ہی تک بھرتیوں کا ریکارڈ منگوالیں، صدر واجد علی گیلانی
ہائیکورٹ کی بھی دیکھ لیں گریڈ ایک سے پندرہ تک کے اسلام آباد ڈومیسائل والے کتنے ملازمین ہیں، واجد گیلانی
گریڈ15 تک اسلام آبادکے رہائیشیوں کو بھرتی کرنے کا قانون حکومت نے خود بنایا ہوا، واجد گیلانی
عدالت نے پولیس سمیت دیگر بھرتیوں پر حکم امتناع واپس لیتے ہوئے سماعت ملتوی کردی