اپنی حفاظت خود کرنا پڑتی ہے عربوں کو سمجھ اگئی

مسقط (انٹرنیشنل ڈیسک )مشرقِ وسطیٰ کی سیاست میں بعض جملے میزائلوں سے زیادہ اثر رکھتے ہیں۔ کبھی کبھی ایک مختصر سا اعتراف بھی دہائیوں کی پالیسیوں پر سوالیہ نشان کھڑا کر دیتا ہے۔ حالیہ دنوں فیصل بن فرحان آل سعود کے اس بیان نے عرب دنیا کے سیاسی ایوانوں میں ایسی ہی ہلچل پیدا کی ہے۔ یہ محض ایک سفارتی جملہ نہیں بلکہ اس تاریخ کا آئینہ ہے جس میں دیکھ کر عرب حکمرانوں نے اپنی سلامتی کی ذمہ داری دوسروں کے کندھوں پر ڈال کر خود کو مطمئن رکھنے کی ناکام کوشش کی۔
عرب دنیا کی جدید سیاسی تاریخ کا ایک المیہ یہ بھی ہے کہ اس نے طاقت کے حقیقی منبع کو سمجھنے میں ہمیشہ دیر کی۔ کبھی برطانوی چھتری کے نیچے اطمینان تلاش کیا گیا اور جب وہ چھتری ہٹ گئی تو امیدوں کا مرکز ریاستہائے متحدہ امریکہ بن گیا۔ عرب حکمرانوں کو یہ یقین دلایا گیا کہ امریکی فوجی اڈے ان کی بقا کی ضمانت ہیں کہ واشنگٹن کی موجودگی ان کے دشمنوں کے لیے ناقابلِ عبور دیوار ثابت ہوگی۔ مگر تاریخ کے صفحات گواہ ہیں کہ بڑی طاقتیں کبھی کسی کی مستقل محافظ نہیں ہوتیں، وہ صرف اپنے مفادات کی محافظ ہوتی ہیں

اپنا تبصرہ بھیجیں