کس کو پڑھنا لکھنا نہیں أتا

نہ پڑھنا آتا، نہ لکھنا… سب سے بڑے صوبے کو کیسے چلائیں گے؟”
مزارِ قائد کے دورے کے بعد نئی بحث چھڑ گئی
رانا تصدق حسین
کراچی: سندھ میں ایک تازہ سیاسی بحث اس وقت شروع ہوگئی جب پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما نیہال ہاشمی کے حالیہ دورۂ مزارِ قائد کے دوران پیش آنے والے ایک واقعے نے توجہ حاصل کرلی۔
محمد علی جناح، بانیٔ پاکستان، کی آخری آرام گاہ مزارِ قائد ملک کے نہایت مقدس اور اہم قومی مقامات میں شمار ہوتی ہے۔
یہ روایت رہی ہے کہ یہاں آنے والی اہم شخصیات فاتحہ خوانی کے بعد وزیٹرز بک میں اپنے تاثرات تحریر کرتی ہیں تاکہ بانیٔ پاکستان کی خدمات اور قومی ورثے کو خراجِ عقیدت پیش کیا جا سکے۔
تاہم ذرائع کے مطابق دورے کے دوران نیہال ہاشمی خود وزیٹرز بک میں اپنے تاثرات تحریر نہ کر سکے، جس کے بعد وہاں موجود عملے کے ایک رکن نے ان کی جانب سے اندراج کیا۔
اس واقعے کے بعد سوشل میڈیا اور سیاسی حلقوں میں فوری طور پر بحث شروع ہوگئی۔
بعد ازاں ایک جملہ سوشل میڈیا پر تیزی سے گردش کرنے لگا:
“اگر وہ یہاں چند الفاظ بھی خود نہیں لکھ سکتے تو سب سے بڑے صوبے کو کیسے چلائیں گے؟”
مبصرین یاد دلاتے ہیں کہ نیہال ہاشمی اس سے قبل بھی اپنے جارحانہ سیاسی بیانات کی وجہ سے تنازعات کا حصہ بن چکے ہیں، جنہوں نے ایک بڑا سیاسی طوفان کھڑا کیا تھا اور اس کے نتیجے میں انہیں سنگین سیاسی اور قانونی نتائج کا سامنا بھی کرنا پڑا تھا۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مزارِ قائد کے دورے محض رسمی سرگرمی نہیں ہوتے بلکہ یہ قومی تاریخ اور بانیٔ پاکستان کے نظریات سے وابستگی کی علامت سمجھے جاتے ہیں۔
ان کے مطابق مزارِ قائد صرف ایک قومی یادگار نہیں بلکہ یہ اس حقیقت کی بھی یاد دہانی کراتا ہے کہ عوامی قیادت کے لیے شعور، ذمہ داری اور قومی تاریخ کے احترام کا ہونا ناگزیر ہے۔