شیخوپورہ با اثر قاتل اپنے انجام کو

شیخوپورہ( کرائم رپورٹر) باپ کے قتل کے بعد شیخوپورہ کی سڑکوں پر ماری ماری پھرنے والی بیٹیوں کے کلیجے میں ٹھنڈ پڑ گئی، بااثر قا۔تل اپنے انجام کو پہنچ گیا۔ سی سی ڈی نے ثابت کر دیا ماؤں بہنوں کو رلانے والوں کی اب خیر نہیں۔
شیخوپورہ کے حاجی طارق کھوکھر کو کچھ ہفتے قبل روزے کی حالت میں دشمنوں نے محض اس بنا پر ق۔ت۔ل کیا کہ وہ اپنے مق۔تول بھائی کے مقدمے کے مدعی تھے۔ بااثر ملزمان انہیں بار بار منع کر چکے تھے کہ مقدمے کی پیروی سے باز آ جاؤ۔
وقوعہ والے دن حاجی طارق عدالتوں، پولیس اور کچہری میں اپنے تحفظ کے لیے مارا مارا پھرتا رہا۔ اسے یقین تھا کہ مخالف آج اس پر حم۔لہ کریں گے۔ اس نے جج صاحب کی بھی منت سماجت کی کہ بیان کے لیے ہمیں اکٹھے نہ بلائیں کیونکہ میری جان کو خطرہ ہے، لیکن جج صاحب فریقین کو ایک ہی وقت میں بیان کے لیے آنے پر بضد رہے۔
حاجی طارق تھانے بھی گئے اور تحفظ کی درخواست کی۔ پولیس والوں نے کہا ابھی ہوا تو کچھ نہیں، جب ہوگا دیکھیں گے۔ یوں حاجی طارق عدالت میں پیشی کے بعد گھر واپس جاتے ہوئے بیٹے کے ہمراہ مخالفین کے نشانے پر آ گیا۔ حاجی طارق خود موقع پر جاں بحق جبکہ ان کا بیٹا شدید زخمی ہوا۔
حاجی طارق کھوکھر کے گھر کی خواتین اور بیٹیاں سراپا احتجاج بن کر سڑکوں پر آ گئیں اور کئی گھنٹے میت سڑک پر لے کر بیٹھی رہیں۔ بعد میں پولیس حکام کی یقین دہانی پر خواتین اپنے باپ کی میت گھر لے گئیں۔
عوامی احتجاج اور معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے کیس سی سی ڈی سب انسپکٹر خالد اور شیراز اور ٹیم کے سپرد کیا گیا۔ ان افسران اور ان کی ٹیم نے دن رات ایک کر کے ملزمان کا سراغ لگایا۔ جب اطلاع ملی کہ مرکزی ملزم جنید ایک جگہ پر موجود ہے تو سی سی ڈی نے فوری کارروائی کی۔ اس کارروائی کے دوران مزاحمت ہوئی اور مرکزی ملزم اپنے انجام کو پہنچا جبکہ باقی ساتھیوں کی تلاش کے لیے ریڈ جاری ہیں۔
اہم بات یہ ہے کہ سی سی ڈی سے یہ کیس واپس مقامی پولیس کے سپرد کروانے کی پوری کوشش کی گئی، بڑی رقم بھی آفر ہوئی، لیکن یہ افسران اپنے مشن پر لگے رہے اور آخر اسے پورا کر دکھایا۔ حاجی طارق تو ظاہر ہے واپس نہیں آ سکتے تھے لیکن ان کی بیٹیوں اور بہنوں کے دل کے زخم پر سی سی ڈی نے مرہم ضرور رکھ دیا ہے۔

islamabad today

اپنا تبصرہ بھیجیں