ہائی پروفائل فراڈ کا ڈراپ سین

اسلام آباد میں 3 کروڑ روپے کے ہائی پروفائل فراڈ کا ڈراپ سین — سرکاری افسر بن کر شہریوں کو لوٹنے والا ملزم گرفتار
تحقیقاتی رپورٹ
رانا تصدق حسین
اسلام آباد: وفاقی دارالحکومت میں سرکاری عہدے اور اثر و رسوخ کی آڑ میں کروڑوں روپے کے مبینہ مالی فراڈ کا ایک سنسنی خیز معاملہ بالآخر بے نقاب ہو گیا۔
اسلام آباد پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے خود کو بااثر سرکاری افسر ظاہر کر کے شہریوں کو مبینہ طور پر لوٹنے والے ہائی پروفائل ملزم صولت علی کو گرفتار کر لیا ہے۔
پولیس ذرائع کے مطابق تھانہ سیکرٹریٹ پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے تقریباً تین کروڑ روپے کے مالی فراڈ میں ملوث ملزم کو گرفتار کیا، جو طویل عرصے سے قانون کی گرفت سے بچنے کے لیے اپنے مبینہ سرکاری تعلقات اور اثر و رسوخ کا سہارا لیتا رہا۔
سرکاری عہدے کا مبینہ غلط استعمال
ابتدائی تحقیقات کے مطابق ملزم صولت علی ماضی میں وزارتِ داخلہ میں بطور سیکشن آفیسر خدمات انجام دے چکا ہے۔
بعد ازاں حالیہ عرصے میں وہ مبینہ طور پر وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی میں ڈائریکٹر ٹو منسٹر (پی ایس) کے طور پر کام کر رہا تھا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ملزم مبینہ طور پر شہریوں کو اعلیٰ سرکاری روابط اور اثر و رسوخ کا جھانسہ دے کر ان سے بھاری رقوم وصول کرتا رہا اور سرکاری معاملات حل کروانے کے نام پر لوگوں کو گمراہ کرتا رہا۔
متاثرہ شہری کی تین سالہ جدوجہد
تفصیلات کے مطابق متاثرہ شہری محمد جاوید گزشتہ تین برسوں سے انصاف کے حصول کے لیے مختلف اداروں کے چکر لگاتا رہا۔
متاثرہ شہری کے مطابق ملزم نے سرکاری معاملات میں اثر و رسوخ استعمال کرنے اور کام کروانے کے نام پر اس سے تقریباً تین کروڑ روپے وصول کیے۔
الزام ہے کہ رقم وصول کرنے کے بعد ملزم طویل عرصے تک مختلف بہانوں، جھوٹے وعدوں اور تاخیری حربوں کے ذریعے متاثرہ شہری کو ٹالتا رہا۔
معاملہ اس وقت سنگین صورت اختیار کر گیا جب ملزم کی جانب سے دیا گیا چیک ڈس آنر ہو گیا، جس کے بعد متاثرہ شہری نے سال 2022 میں تھانہ کوہسار میں مقدمہ درج کرایا۔
متعدد مقدمات میں اشتہاری قرار
پولیس ذرائع کے مطابق ملزم صرف ایک کیس میں مطلوب نہیں تھا بلکہ تھانہ کوہسار اور تھانہ آبپارہ میں درج مزید تین مقدمات میں بھی اسے اشتہاری ملزم قرار دیا جا چکا تھا۔
عدالت کی جانب سے ایس ایس پی اسلام آباد کو ملزم کی فوری گرفتاری کے لیے واضح احکامات اور روبکار جاری کی گئی تھیں۔
عدالتی احکامات پر عملدرآمد کرتے ہوئے پولیس نے کارروائی کر کے ملزم کو گرفتار کر لیا۔
پولیس کا مؤقف
اعلیٰ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ قانون کی نظر میں کوئی بھی شخص بالاتر نہیں چاہے وہ کتنا ہی بااثر کیوں نہ ہو۔ پولیس کے مطابق ملزم سے مزید تفتیش جاری ہے جبکہ اس امر کی بھی کوشش کی جا رہی ہے کہ متاثرہ شہری کی رقم کی واپسی کو ممکن بنایا جا سکے۔
ریاستی اداروں کے لیے اہم تنبیہ
ماہرین کے مطابق یہ واقعہ ریاستی نگرانی کے نظام کے لیے ایک اہم تنبیہ ہے۔
اس امر کی اشد ضرورت ہے کہ ڈائریکٹر جنرل انٹیلی جنس بیورو سول اور پبلک سرونٹس کے طرزِ عمل سے متعلق موصول ہونے والی شکایات پر مؤثر اور سخت نگرانی کو یقینی بنائیں۔
خاص طور پر ایسے معاملات جن میں سرکاری عہدے یا اثر و رسوخ کے مبینہ غلط استعمال کے ذریعے عوام کو گمراہ کیا جائے، ان پر فوری انٹیلی جنس اسکرونٹی اور ریاستی سطح پر بروقت اصلاحی اقدامات ناگزیر ہیں تاکہ ریاستی اداروں کی ساکھ محفوظ رہے اور عوام کا اعتماد بحال کیا جا سکے۔