ائینی عدالت کا فوت شدہ ملازمین

اسلام اباد( کورٹ رپورٹر )فیڈرل آئینی عدالت کا اہم فیصلہ — فوت شدہ ملازمین کے بچوں/بیوہ کو نوکری کا حق برقرار
فیڈرل آئینی عدالت نے ایک اہم فیصلہ سناتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اگر کسی سرکاری ملازم کی وفات اس وقت ہوئی جب فوت شدہ ملازم کے بچوں یا شریک حیات کے کوٹہ کا قانون موجود تھا تو اس کے بعد قانون ختم ہونے کے باوجود بھی ان کے حاصل شدہ حق (Accrued Right) کو ختم نہیں کیا جا سکتا۔
عدالت نے قرار دیا کہ جیسے ہی کسی سرکاری ملازم کی وفات ہوتی ہے تو اس کے بچوں یا شریک حیات کو سرکاری ملازمت حاصل کرنے کا حق پیدا ہو جاتا ہے۔ بعد میں درخواست دینا یا تقرری کا لیٹر جاری ہونا صرف انتظامی کارروائی ہے، اس سے اصل حق متاثر نہیں ہوتا۔
فیڈرل آئینی عدالت نے مزید کہا کہ عدالت کے فیصلے عام طور پر مستقبل (Prospective) میں لاگو ہوتے ہیں، ماضی کے ایسے حقوق یا معاملات کو ختم نہیں کرتے جو پہلے ہی پیدا ہو چکے ہوں۔
اسی بنیاد پر عدالت نے حکومت کی اپیلیں مسترد کرتے ہوئے ہائی کورٹ کے فیصلے کو برقرار رکھا اور قرار دیا کہ فوت شدہ ملازمین کے بچوں یا شریک حیات کو ملازمت دینے کا حق برقرار رہے گا اگر یہ حق ملازم کی وفات کے وقت پیدا ہو چکا تھا۔
یہ فیصلہ سرکاری ملازمین کے خاندانوں کے لیے ایک اہم قانونی تحفظ فراہم کرتا ہے۔