اسلامی ممالک کے لیے لمحہ فکریہ

اسلامی ممالک کے لئے لمحہ فکریہ!
………………………………تنویر حسن کا کالم ……………………………….

یہ پہلی مرتبہ نہیں کہ امریکہ نے اپنے دیرینہ ساتھی اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران پر تیغ زنی کی ہے اس سے پہلے عراق اور افغانستان کے ساتھ امریکہ یہی سلوک روا رکھ چکا ہےاب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ امریکہ آخر مسلم ممالک کے خلاف ہی مہم جوئی کیوں کرتا ہے اگر امریکہ کو سارے وہ مسلمان ممالک جو فوجی قوت کے حامل ہیں دنیا کے امن کے لیے خطرہ محسوس ہوتے ہیں تو ہم دیگر غیر مسلم ممالک کے بارے میں کیا سوچیں جنہوں نے مسلم ممالک کے مقابلے میں کہیں زیادہ مہلک ہتھیاروں کے انبار لگا رکھے ہیں ۔سوال تو یہ بھی ہے کہ شمالی کوریا ببانگ دہل اعلان کر چکا ہے کہ اس کے پاس ایٹمی صلاحیت موجود ہے اور وہ خود کو امریکہ کا دشمن بھی بڑے فخر سے کہتا ہے تو پھر کیوں اس پر امریکہ چڑھائی نہیں کرتا ان سوالات کے جوابات کچھ زیادہ مشکل نہیں ہیں صورت حال کچھ یوں ہے کہ مسلم ممالک کبھی متحد نہیں ہوئے مسلم ممالک کے متحد نہ ہونے کی وجہ بھی خود امریکہ ہی ہے کیونکہ اپنے ملک کے مفادات کا تحفظ کرنے اور دنیا میں مسلم ممالک کا بلاک بنانے کی پاداش میں امریکی سی آئی اے کتنے مسلم حکمرانوں یا تو اقتدار سے الگ کرچکی ہے یا پھر ان کی جان لے لی گئی یہ جنگ نئی نہیں ہے امریکہ پہلے چھپ چھپا کر وار کرتا تھا اب کھل کر اسرائیل کی حمایت میں آگیا ہے بھلا سوچیں کہ اس اسرائیل کی حمایت امریکہ جیسی سپر پاور کررہی ہے جس کے سربراہ نیتن یاہو کو عالمی عدالت انصاف پہلے ہی سزا دے چکی ہے اگر خدا نخواستہ کسی مسلم ملک نے اسرائیل جیسے مظالم برپا کئے ہوتے تو امریکہ اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر بنام امن عالم کب کا تہہ تیغ کر چکا ہوتا۔ گویا اب یہ حقیقت بھی دنیا کے سامنے کھل کر آچکی ہے کہ امریکہ کو کسی ملک میں انسانی حقوق کی پرواہ ہرگز نہیں اسے صرف اپنے مفادات سے غرض ہےان تمام حقائق کو مانتے ہوئے ہم دیکھتے ہیں کہ اسلامی ممالک بے پناہ قدرتی وسائل کے باوجود سکتے میں ہیں امریکہ اور اسرائیل نے مل کر بڑے اسلامی ملک ایران پر یلغار کی لیکن او آئی سی سمیت 57 اسلامی ممالک چوں تک نہیں کرسکے اس سے پہلے فلسطین میں ہلاکو خان سے بڑھ کر اسرائیل نے مظالم کئے لیکن ایک مسلم حکمران بول نہیں سکا۔اس صورت حال کا تو سیدھا سا مطلب یہی ہے کہ آپ ہماری گردنوں پر تلوار چلاتے رہیں ہم ایک ایک کرکے کٹتے جائیں گے لیکن آواز بلند نہیں کریں گے میری نظر میں سب سے پہلے خلیجی ممالک کو اس ظلم اور بربریت کے خلاف آواز بلند کرنی چاہیے تھی کیونکہ اسرائیل کا وجود ہی عربوں کو دیوار سے لگانے کے لیے قائم کیا گیا تھا۔اج جب ایران نے ہمت دکھائی تو کسی خلیجی ملک نے امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے مشترکہ جارحیت کے خلاف ایک بیان دینے کی بھی توفیق نہ ہوئی یہود و ہنود اپنے تمام تر اختلافات کے باوجود مسلم ممالک کے خلاف متحد ہیں لیکن دوسری جانب مسلم ممالک اپنے اپنے چھوٹے چھوٹے مفادات کے تحفظ کے لیے تقسیم در تقسیم نظر آتے ہیں۔لیکن وقت تیزی سے بدل رہا ہے گزشتہ کئی دہائیوں سے جاری ڈنگ ٹپاؤ پالیساں اب آؤٹ ڈیٹڈ ہوچکی ہیں بات اب نہیں تو کبھی نہیں تک جا پہنچی ہے امریکہ بھی اب مزید یونی پاور نہیں رہے گا عالمی سطح پر چین اور روس بڑی طاقتیں بن کر ابھرنے والی ہیں امریکہ وہ مردہ سانپ بن جائے گا جسے دیکھ کر چھوٹے اور کم معیشت ممالک کچھ عرصہ خوف میں رہیں گے اور پھر کہانی بدل جائے گی دنیا میں کچھ بھی ایک جیسا نہیں رہتا یہ قانون قدرت ہے اس سے انکار ممکن نہیں آج امریکہ اپنے حواری اسرائیل کے ساتھ خیلج میں بری طرح پھنس چکا ہے اور اب بات عزت بچانے تک جا پہنچی ہے لیکن ایران امریکہ کو تاریخی ہزیمت سے دوچار کرنے کی ٹھان چکا ہے اگر چہ ایران نے اس جنگ میں نقصان بھی اٹھایا ہے لیکن کبھی کبھی بہت کچھ پانے کے لیے کچھ کھونا بھی پڑتا ہے۔ ایرانیوں نے ثابت کیا ہے کہ اگر عزم بلند ہو تو قومیں تاریخ رقم کر سکتی ہیں۔ یوں بھی شہید آیت اللہ خامنہ ای نئے اپنی قوم کی تربیت ہی ایسی کی ہے کہ جینا ہے تو صرف عزت سے ورنہ نام بھی نہ ہوگا داستان میں والی صورتحال ہوسکتی ہے۔یہ جنگ تو اک دن ختم ہو جائے گی لیکن عالم اسلام کو سوچنا ہوگا کہ وہ بدلتی ہوئی دنیا میں کہاں کھڑے ہوتے ہیں

اپنا تبصرہ بھیجیں