پاسپورٹ ہیڈ کوارٹر سینکڑوں گھروں کے چولھے بند؟

وزیر داخلہ محسن نقوی

رمضان میں 128 گھروں کے چولہے بجھانے کا فیصلہ؟ پاسپورٹ ہیڈکوارٹر اسلام آباد کے غریب ملازمین کو نوکریوں سے نکالنے پر شدید سوالات

رانا تصدق حسین

اسلام آباد: وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں پاسپورٹ ہیڈکوارٹر کے اندر ایک سنگین انسانی اور معاشی مسئلہ جنم لے رہا ہے جہاں 2008 سے معمولی گریڈز پر خدمات انجام دینے والے 128 غریب ملازمین کو وزارتِ داخلہ کی جانب سے ملازمتوں سے فارغ کرنے کی کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔

اس فیصلے کے نتیجے میں رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں 128 گھروں کے چولہے بجھ جانے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق یہ ملازمین گزشتہ تقریباً سترہ برس سے انتہائی کم تنخواہوں پر ادارے کے روزمرہ امور انجام دیتے رہے ہیں اور عملی طور پر پاسپورٹ ہیڈکوارٹر کے انتظامی ڈھانچے کا حصہ بن چکے ہیں۔

تاہم اب اچانک انہیں نوکریوں سے نکالنے کا فیصلہ نہ صرف حیران کن ہے بلکہ اس سے انسانی ہمدردی کے تقاضوں پر بھی سوال اٹھ رہے ہیں۔

مزید تشویشناک امر یہ ہے کہ ان ملازمین کی بڑی تعداد اب عمر کی اس حد کو عبور کر چکی ہے جہاں وہ کسی دوسرے سرکاری یا نجی ادارے میں نئی ملازمت کے لیے درخواست دینے کے قابل بھی نہیں رہے۔

اس طرح ایک طویل عرصہ ریاستی ادارے کی خدمت کرنے کے بعد یہ افراد عملی طور پر مکمل بے روزگاری کے دہانے پر کھڑے کر دیے گئے ہیں۔

یہ صورتحال ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ملک پہلے ہی شدید مہنگائی اور معاشی دباؤ کا شکار ہے۔

حکومت کی جانب سے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں حالیہ اضافے نے عام شہریوں خصوصاً کم آمدنی والے طبقے کی مشکلات کو مزید بڑھا دیا ہے۔

روزمرہ اشیائے ضروریہ کی قیمتیں مسلسل بڑھ رہی ہیں جبکہ تنخواہیں اور آمدنی جمود کا شکار ہیں۔

ماہرین اور سماجی حلقوں کے مطابق ایسے حالات میں سینکڑوں خاندانوں کی روزی روٹی چھین لینا نہ صرف معاشی بے حسی کی مثال ہے بلکہ یہ معاشرتی بے چینی کو بھی بڑھا سکتا ہے۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ جب عوام پہلے ہی مہنگائی کے بوجھ تلے دبے ہوں تو اس قسم کے فیصلے عملی طور پر آگ پر تیل ڈالنے کے مترادف ہوتے ہیں۔

متاثرہ ملازمین نے صدرِ پاکستان، وزیر اعظم اور وزیر داخلہ سے فوری مداخلت کی اپیل کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر اس فیصلے پر نظرثانی کی جائے۔

انہوں نے حکومت سے یہ بھی مطالبہ کیا ہے کہ انہیں کسی متبادل سرکاری محکمے میں ایڈجسٹ کیا جائے تاکہ رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں ان کے بچوں کے منہ سے رزق کا آخری نوالہ نہ چھینا جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں