جعلی ڈگریوں پہ نوکریاں اصلی ڈگری والے بے روزگار 

وفاقی دارالحکومت میں سرکاری اداروں میں جعلی اسناد کے ذریعے بھرتیوں کا ایک بڑا اسکینڈل بے نقاب ہو گیا ہے، جہاں فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) کے اینٹی کرپشن سرکل (ACC) اسلام آباد نے سخت کارروائی کرتے ہوئے کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (CDA) کے 28 ملازمین کو گرفتار کر لیا ہے۔

رانا تصدق حسین

اسلام آباد — یہ کارروائی اس وقت عمل میں آئی جب معزز عدالت ایس جے سی-II اسلام آباد نے ملزمان کی قبل از گرفتاری ضمانت کی درخواستیں مسترد کر دیں۔
ایف آئی اے کے مطابق یہ مقدمہ ایف آئی آر نمبر 109/2025 مورخہ 4 دسمبر 2025 کے تحت درج کیا گیا تھا۔ مقدمے میں تعزیراتِ پاکستان کی سنگین دفعات 109 (اعانت جرم)، 420 (دھوکہ دہی)، 467 (اہم دستاویزات میں جعلسازی)، 468 (دھوکہ دہی کی نیت سے جعلسازی) اور 471 (جعلی دستاویز کو اصل ظاہر کر کے استعمال کرنا) کے علاوہ انسدادِ بدعنوانی ایکٹ 1947 کی دفعہ 5(2) بھی شامل کی گئی ہے، جو سرکاری اختیارات کے ناجائز استعمال اور بدعنوانی کے مقدمات میں انتہائی سخت قانونی کارروائی کا تقاضا کرتی ہے۔
تحقیقات کے مطابق گرفتار ہونے والے ملازمین بی پی ایس-05 سے بی پی ایس-14 تک مختلف عہدوں پر تعینات تھے۔ الزام ہے کہ ان افراد نے جعلی تعلیمی ڈگریاں، اسکول سرٹیفکیٹس اور دیگر تعلیمی اسناد جمع کرا کر غیر قانونی طور پر سرکاری ملازمت حاصل کی۔ اس منظم فراڈ کے ذریعے نہ صرف انہوں نے حکومتی عہدے، تنخواہیں اور دیگر مالی و انتظامی مراعات حاصل کیں بلکہ قومی خزانے کو بھی بھاری نقصان پہنچایا۔ اس کے ساتھ ساتھ سرکاری بھرتیوں کے میرٹ سسٹم کو بھی شدید نقصان پہنچا اور اہل امیدواروں کے حقوق سلب ہوئے۔
ایف آئی اے حکام کے مطابق 2 مارچ 2026 کو عدالت سے ضمانت مسترد ہونے کے فوری بعد اینٹی کرپشن سرکل کی خصوصی ٹیموں نے کارروائی کرتے ہوئے تمام نامزد ملزمان کو گرفتار کر لیا۔ گرفتار افراد کو آج متعلقہ عدالت میں پیش کیا جائے گا جہاں جسمانی ریمانڈ حاصل کر کے مزید تفتیش آگے بڑھانے کی درخواست کی جائے گی۔
ذرائع کے مطابق تحقیقات کا دائرہ اب مزید وسیع کر دیا گیا ہے اور معاملہ صرف ملازمین تک محدود نہیں رہے گا۔ متعلقہ بھرتی کمیٹی کے ارکان، اسناد کی تصدیق کرنے والے حکام، فائلوں کی جانچ کرنے والے افسران اور حتمی منظوری دینے والی اتھارٹیز کے کردار کا بھی باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے۔ ایف آئی اے کی تفتیشی ٹیمیں ریکارڈ، سروس فائلوں، تعلیمی اسناد اور تصدیقی دستاویزات کی مکمل چھان بین کر رہی ہیں تاکہ یہ تعین کیا جا سکے کہ آیا کسی افسر نے جان بوجھ کر سہولت فراہم کی، ملی بھگت کی یا مجرمانہ غفلت کا مظاہرہ کیا۔
ایف آئی اے اسلام آباد زون کے ترجمان نے واضح کیا ہے کہ سرکاری اداروں میں جعلی اسناد کے ذریعے بھرتی، اختیارات کے ناجائز استعمال اور مالی بدعنوانی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ادارہ بدعنوانی کے خاتمے، شفافیت کے فروغ اور سرکاری نظام میں حقیقی میرٹ کے قیام کے لیے پرعزم ہے اور ایسے تمام عناصر کے خلاف بلا امتیاز سخت قانونی کارروائی جاری رکھی جائے گی۔
یہ کارروائی وفاقی دارالحکومت میں سرکاری بھرتیوں کے نظام، اسناد کی تصدیق کے طریقہ کار اور ادارہ جاتی نگرانی کے نظام پر بھی سنگین سوالات اٹھا رہی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر تحقیقات کا دائرہ مکمل طور پر آگے بڑھایا گیا تو جعلی اسناد کے ذریعے سرکاری ملازمتوں کے ایک بڑے نیٹ ورک کے مزید انکشافات سامنے آنے کا امکان

اپنا تبصرہ بھیجیں