این ایچ اے شدید بحرانوں کا شکار

نیشنل ہائی وے اتھارٹی شدید بحران کا شکار
بدانتظامی، مالیاتی ہیر پھیر اور توہینِ عدالت کے سنگین الزامات

رانا تصدق حسین

اسلام آباد – نیشنل ہائی وے اتھارٹی، جو ملک کے شاہراہ نظام کی بنیاد اور قومی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے، اس وقت شدید انتظامی اور ادارہ جاتی بحران سے دوچار ہے۔

باخبر ذرائع کے مطابق ادارے میں بدانتظامی، مالیاتی حقائق میں مبینہ رد و بدل، پالیسی سازی میں مداخلت، عدالتی احکامات کی ممکنہ خلاف ورزی اور سیاسی اثر و رسوخ جیسے معاملات نے اس کی قانونی خودمختاری اور انتظامی ساکھ کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔

غیر قانونی عہدے کا اجرا:

ممبر (عمل درآمد) تنازعہ
بحران کا مرکزی نکتہ “ممبر (عمل درآمد)” کے عہدے کا اجرا ہے، جو ادارے کے منظور شدہ قانونی ڈھانچے میں موجود نہیں۔

ذرائع کے مطابق ایک ڈیپوٹیشن افسر کو اس عہدے پر تعینات کیا گیا ہے، جبکہ وہ بیک وقت ممبر (انتظامیہ) کا اضافی چارج بھی سنبھالے ہوئے ہیں، جو کہ گریڈ بیس کا ترقیاتی عہدہ ہے اور باقاعدہ کیڈر افسران کے لیے مخصوص سمجھا جاتا ہے۔

قانونی ماہرین کے مطابق:

جب ادارے میں موزوں باقاعدہ افسر موجود ہو تو ڈیپوٹیشن افسر کی تعیناتی قواعد کے منافی سمجھی جا سکتی ہے۔

ترقیاتی نشست پر غیر کیڈر افسر کو بٹھانا سروس اسٹرکچر کی روح کے خلاف تصور کیا جاتا ہے۔

عدالتی فیصلوں میں باقاعدہ افسران کے ترقیاتی حقوق کے تحفظ پر واضح ہدایات موجود ہیں۔

اسی طرح گریڈ اٹھارہ کے بعض افسران کو بھی ترقیاتی نشستوں پر تعینات کیے جانے پر ادارے کے اندر بے چینی پائی جاتی ہے۔

مزید برآں، بزنس پلان کی تیاری میں کردار ادا کرنے والے چند سینئر افسران کو بعد ازاں او ایس ڈی بنا دیے جانے کے اقدام کو بھی شکوک کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے۔

وزارتی مداخلت کے الزامات
وفاقی وزیر مواصلات پر یہ الزام عائد کیا جا رہا ہے کہ وہ ادارے کے انتظامی اور مالی معاملات میں براہِ راست اثر انداز ہو رہے ہیں، حالانکہ قانونی طور پر ادارے کی نگرانی کا اعلیٰ ترین فورم نیشنل ہائی وے کونسل ہے۔
الزامات میں شامل ہیں:

بزنس پلان پر براہِ راست نگرانی

اعلیٰ سطحی تبادلوں اور تعیناتیوں میں کردار

مالی حکمت عملی اور وسائل کی تقسیم پر اثر انداز ہونا
ناقدین کے مطابق اگر یہ دعوے درست ثابت ہوئے تو یہ ادارہ جاتی خودمختاری میں سنگین مداخلت شمار ہوگی۔

روٹیشن پالیسی کی مبینہ خلاف ورزی

اتھارٹی کی روٹیشن پالیسی، جس کا مقصد اختیارات کے ارتکاز اور مالی بے ضابطگیوں کو روکنا تھا، مبینہ طور پر نظر انداز کی جا رہی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ بعض افسران طویل عرصے سے حساس نشستوں پر تعینات ہیں، جس کے نتیجے میں:

سینیارٹی فہرستوں میں مبینہ رد و بدل

ترقیوں میں جانبداری

انتظامی فوائد کا غیر مساوی استعمال

جیسے الزامات سامنے آ رہے ہیں۔

آزادانہ فرانزک آڈٹ کا مطالبہ زور پکڑتا جا رہا ہے۔

بزنس پلان اور مالی تصویر کشی اطلاعات کے مطابق ٹول اصلاحات، پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ، قرضوں کی ادائیگی اور توسیعی منصوبوں پر مشتمل بزنس پلان میں تبدیلیاں کی جا رہی ہیں۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ اگر ادارے کی مالی حالت کو حقیقت کے برعکس پیش کیا گیا تو اس کے اثرات بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے اعتماد پر بھی پڑ سکتے ہیں۔

متنازع تقرریاں

کچھ تعیناتیاں بھی سوالات کی زد میں ہیں، جن میں:

غیر متعلقہ شعبوں کے افسران کو انتظامی عہدوں پر تعینات کرنا

مبینہ بدعنوانی کے الزامات رکھنے والے افراد کو حساس ذمہ داریاں دینا

تیز رفتار ترقیوں کے ذریعے سروس اسٹرکچر کو متاثر کرنا
شامل ہیں۔

ناقدین کے مطابق یہ اقدامات میرٹ کے اصولوں سے انحراف کے مترادف ہو سکتے ہیں۔

وسیع تر ادارہ جاتی اثرات
اگر الزامات درست ثابت ہوئے تو اس کے ممکنہ نتائج درج ذیل ہو سکتے ہیں:

باقاعدہ افسران کے ترقیاتی حقوق متاثر ہونا

عدالتی وقار کو نقصان پہنچنا

مالی شفافیت پر سوالات اٹھنا
ادارے کی ساکھ کمزور ہونا

اہم سوالات

غیر منظور شدہ عہدے کو کس قانونی اختیار کے تحت فعال کیا گیا؟

جب باقاعدہ افسر موجود تھے تو اضافی چارج ڈیپوٹیشن افسر کو کیوں دیا گیا؟

روٹیشن پالیسی پر مکمل عمل درآمد کیوں نہیں ہو رہا؟

کیا عدالتی احکامات کی مکمل پاسداری کی جا رہی ہے؟

کیا مالی حقائق شفاف انداز میں پیش کیے جا رہے ہیں؟

اعلیٰ سطحی نگرانی کا مطالبہ
باخبر حلقوں کا کہنا ہے کہ معاملے کی آزادانہ اور اعلیٰ سطحی جانچ ناگزیر ہو چکی ہے تاکہ شفافیت، قانونی تقاضوں اور میرٹ کی بالادستی کو یقینی بنایا جا سکے۔

آنے والے ہفتے اس بات کا تعین کریں گے کہ آیا اصلاحات کا راستہ اختیار کیا جاتا ہے یا ملک کے ایک اہم ترین انفراسٹرکچر ادارے کو انتظامی بے یقینی کا سامنا جاری رہے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں