کیا روٹھی بیوی کو عدالت ۔۔۔۔۔

اسلام آباد( رپورٹ:،رانامسعود حسین)
عدالت عظمیٰ کے شریعت اپیلیٹ بنچ نے” حق زوجیت کی ادائیگی اور اس سلسلے میں عدالتی اختیارات کی حدود” سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو نوٹسز جاری کرتے ہوئے ان سے اس نقطہ پر تفصیلی جواب طلب کر لیا ہے کہ ،کیا عدالت کسی روٹھی ہوئی بیوی کو زبردستی اس کے شوہر کے پاس بھیج سکتی ہے؟جسٹس جمال خان مندوخیل کی سربراہی میں جسٹس شاہد وحید، جسٹس عرفان سادات خان اور عالم جج ڈاکٹر خالد مسعود اور ڈاکٹر قبلہ ایاز پر مشتمل پانچ رکنی لارجر شریعت اپیلیٹ بنچ نے سوموار کے روز کیس کی سماعت کی توجسٹس جمال مندوخیل نے استفسار کیا کہ کیا کوئی عدالت کسی خاتون کو زبردستی اس کے شوہر کے پاس بھجوا سکتی ہے؟انہوں نے مزید سوال اٹھایا کہ اگر خاتون عدالتی فیصلہ تسلیم نہ کرے تو کیا اسے گرفتار کیا جائے گا؟جبکہ جسٹس شاہد وحید نے ریمارکس دیے کہ ضابطہ دیوانی کے تحت خاتون کی جائیداد کی ضبطی اور گرفتاری کی گنجائش تو موجود ہے، لیکن اصل سوال یہ ہے کہ کیا ایسی گرفتاری یا جائیداد کی ضبطگی شرعی طور پر درست ہوگی؟ جسٹس عرفان سادات خان نے سوال کیا کہ عدالت کسی خاتون کو حقوق زوجیت کی ادائیگی پر کیسے مجبور کر سکتی ہے؟جس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے موقف اختیار کیا کہ اگر خاتون ساتھ نہ رہنا چاہے تو وہ شوہر سے خلع لے سکتی ہے،انہوںنے کہاکہ نکاح ایک معاہدہ ہے، جب تک یہ برقرار ہے دونوں فریقین اس پر عملدرآمد کے پابند ہیں،قانون میاں ،بیوی دونوں کے لیے برابر ہے، جس طرح فیصلہ نہ ماننے پر شوہر کو خرچہ نہ دینے کی صورت میں گرفتار کیا جا سکتا ہے، وہی اصول دوسری جانب بھی لاگو ہو سکتا ہے،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ بعض اوقات معاملات “ضد” پر آ جاتے ہیں، انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر خاتون کہے کہ نہ تو شوہر کے ساتھ جانا ہے اور نہ ہی خلع لینی ہے، یا شوہر کہے کہ نہ تو ساتھ رکھوں گا اور نہ ہی طلاق دوں گا، تو ایسی صورتحال میں قانون کا کیا کردار ہوگا؟بعد ازاںعدالت نے مذکورہ بالا حکم جاری کرتے ہوئے مزید سماعت اپریل کے پہلے ہفتے تک ملتوی کر دی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں