ملک کی اعلی عدلیہ کی کارکردگی کی ایک جھلک

اسلام آباد (تجزیاتی رپورٹ:، رانا مسعود حسین)
پاکستان کی سیاسی و عدالتی تاریخ میں”’حکمِ امتناع کیس”کے نام سے عالمگیر شہرت پانے والا این اے 265 کوئٹہ کا انتخابی معرکہ جمعہ کے مبارک دن ،بالآخر اپنے منطقی انجام کو پہنچ گیاہے، سپریم کورٹ نے پی ٹی آئی دور حکومت کے ڈپٹی اسپیکر قاسم خان سوری کی جانب سے دائر اپیل، واپس لینے کی بنیاد پر نمٹاتے ہوئے خارج کر دی ہے، دورانِ سماعت قاسم سوری کے وکیل نے انکشاف کیا ہے کہ پاکستان کے سابق ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی آجکل امریکہ میں ٹیکسی چلا کر گزر بسر کر رہے ہیں ،جسٹس شاہد وحید کی سربراہی میں قائم تین رکنی بینچ نے جمعہ کے روزقاسم سوری کی الیکشن ٹریبونل بلوچستان کے فیصلہ کے خلاف دائر اپیل کی سماعت کی تو ان کے وکیل نعیم بخاری پیش ہوئے اور موقف اختیار کیا کہ ان کا موکل اپنی نشست سے مستعفی ہوگیا تھا اور اس نے 2018 کے بعد انتخابات میں حصہ بھی نہیں لیا ہے ،وہ اس وقت امریکہ میں رہائش پزیر ہے اور ٹیکسی چلاکرگزربسر کررہا ہے ، اس لئے اس اپیل کو آگے چلانے کا جوائی جواز نہیں ہے ،انہوںنے بتایا کہ ان کا موکل اپنی اپیل واپس لینے کی اجازت لینا چاہتاہے ،جس پر عدالت نے قاسم سوری کی استدعا منظور کرتے ہوئے اپیل واپس لیے جانے کی بنیاد پر خارج کردی،یاد رہے کہ ساڑھے سات سالہ قانونی جنگ کا یہ سفر 2018 کے( مبینہ انجینئرڈ )عام انتخابات سے شروع ہوا تھا، جب بلوچستان نیشنل پارٹی کے مدمقابل امیدوار میر لشکری رئیسانی نے ڈپٹی سپیکر ،قاسم سوری کی کامیابی کو” بدترین دھاندلی” کے الزامات کے ساتھ چیلنج کیا تھا،27ستمبر2019کو الیکشن ٹریبونل بلوچستان ، کے سربراہ جسٹس عبداللہ بلوچ نے دھاندلی کے شواہد ثابت ہوجانے کی بنیاد پر قاسم سوری کی کامیابی کو کالعدم قرار دیتے ہوئے اس حلقہ میں دوبارہ انتخابات کا حکم جاری کیا تھا،جسے قاسم سوری نے سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تو 7 اکتوبر2019 کو جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں جسٹس فیصل عرب اور جسٹس اعجازالاحسن پر مشتمل 3 رکنی بینچ نے الیکشن ٹریبونل کے فیصلے پر حکم امتناع کے اجراء کی قاسم سوری کی درخواست منظور کرتے ہوئے عبوری حکمنامہ کے ذریعے الیکشن ٹریبونل کا فیصلہ معطل کردیا اور زیر غور اپیل کا حتمی فیصلہ ہونے تک ان کی اسمبلی کی رکنیت بحال کردی تھی،اس عدالتی حکم امتناع نے قاسم سوری کو وہ سیاسی زندگی فراہم کی تھی جس پر آج تک آئینی و قانونی و سیاسی حلقوں میں کڑی تنقید کی جاتی ہے ،تین رکنی بنچ کے اس حکم امتناع کی بدولت ،قاسم سوری 2 سال، 6 ماہ اور 19 دن تک غیر قانونی طور پر نہ صرف قومی اسمبلی کے رکن اور ڈپٹی اسپیکر کے عہدہ کے مزے لوٹتے رہے ،بلکہ الیکشن ٹریبونل کی جانب سے انہیں نااہل قرار دینے کے واضح حکم کے باوجود اس حلقہ کے عوام دوبارہ پولنگ اور اپنی جائز اور اصلی نمائندگی کے حق سے بھی محروم رہے،یہ بھی یاد رہے کہ قاسم سور ی نے وزیر اعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی منظوری اور میاں شہباز شریف کے وزیر اعظم بننے کے محض چار روز بعد ہی ( 16اپریل2022 )کو قومی اسمبلی کی نشست سے خود ہی استعفیٰ دے دیا تھا ،یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ وہ عدالتی فیصلے کی بجائے سیاسی حالات کی وجہ سے اس اہم عہدہ سے الگ ہوئے تھے ،قانونی و آئینی ماہرین کا کہنا ہے کہ”حکم امتناع کے خوفناک حد تک طویل اور ناجائز استعمال” کے اس مقدمہ نے ملک کے سنجیدہ حلقوں میں ایک بار پھر یہ بحث چھیڑ دی ہے کہ وطن عزیز کے بااثرطبقات کی جانب سے کس طرح ‘حکمِ امتناع’ کو نہ صرف سیاسی مقاصد اور سیاسی وسرکاری عہدوں کی طوالت بلکہ معصوم شہریوں کی جائیدادوں پر قبضہ اور استحصال تک کے لیے ناجائز طورپر بھی استعمال کیا جاتا ہے۔