سی سی ڈی افسر حوالات میں بند

سی سی ڈی انسپکٹر اپنے ہی تھانے کی حوالات میں بند
اپنے ہی ماتحتوں کے ہاتھوں گرفتاری، اپنے ہی تھانے میں مقدمہ درج

تحریر: آلِ علی

میانوالی: ایک غیر معمولی اور حیران کن پیش رفت میں کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ (سی سی ڈی) میانوالی کے انسپکٹر فیصل محمود کے خلاف اُنہی کے اپنے تھانے میں مقدمہ درج کر لیا گیا، جس کے بعد انہیں اسی تھانے کی حوالات میں بند کر دیا گیا جہاں وہ بطور انچارج فرائض سرانجام دے رہے تھے۔
ذرائع کے مطابق انسپکٹر فیصل محمود کے خلاف الزامات سامنے آنے پر قانونی کارروائی کا آغاز کیا گیا، ضابطے کے تحت مقدمہ درج ہوا اور ابتدائی شواہد کی بنیاد پر گرفتاری عمل میں لائی گئی۔ بعد ازاں انہیں اسی تھانے کی حوالات منتقل کر دیا گیا جس کی نگرانی ان کے سپرد تھی۔ یہ صورتحال محکمہ پولیس کے اندرونی احتسابی نظام پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔
اطلاعات کے مطابق سی سی ڈی اور سی ٹی ڈی جیسے حساس شعبوں میں تعیناتی سے قبل افسران کے سروس ریکارڈ، کردار اور مالی معاملات کی مکمل جانچ پڑتال نہایت ضروری ہے۔ ناقدین کا مؤقف ہے کہ اگر پس منظر کی چھان بین کا نظام مؤثر اور شفاف ہو تو اس نوعیت کے واقعات کی روک تھام ممکن ہو سکتی ہے۔
پنجاب پولیس میں حالیہ عرصے کے دوران مختلف افسران کے خلاف کارروائیوں کی اطلاعات سامنے آتی رہی ہیں، جس کے باعث محکمہ جاتی احتساب کے نظام پر بحث شدت اختیار کر چکی ہے۔ میانوالی کا یہ واقعہ اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی تصور کیا جا رہا ہے۔
شہری و سماجی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ اعلیٰ سطح پر فوری اور فیصلہ کن اقدامات کیے جائیں تاکہ فورس کو بدعنوانی اور اختیارات کے ناجائز استعمال سے پاک کیا جا سکے۔ مبصرین کے مطابق اس صورتحال میں اعلیٰ قیادت، بالخصوص سید عاصم منیر اور وفاقی وزیر داخلہ سید محسن نقوی کی سطح پر مربوط اور سخت پالیسی اقدامات ناگزیر ہو چکے ہیں، تاکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں پر عوامی اعتماد بحال کیا جا سکے۔
حکام کا کہنا ہے کہ مقدمے کی تفتیش میرٹ پر جاری ہے اور اگر مزید شواہد سامنے آئے تو کارروائی کا دائرہ مزید وسیع کیا جا سکتا ہے۔ اب نظریں اس بات پر مرکوز ہیں کہ آیا یہ واقعہ محکمہ پولیس میں حقیقی اصلاحات کا آغاز ثابت ہوگا یا محض ایک داخلی کارروائی تک محدود رہے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں