حوا کی بیٹی کی کہانی کرائم رپورٹر کی زبانی

راولپنڈی( کرائم رپورٹر )کون سنے بوڑھی ماں کی فریاد،
اڈیالہ چوکی میں اوباش آدمی کے خلاف فریاد لے کر جانے والی بیوہ بوڑھی ماں نسرین بی بی کو بااثر ملزم محمود شبیر کی ایماء پر نِکے اور وڈے تھانیداروں نے 7 گھنٹے حبس بے جا میں رکھنے کے بعد بیٹے شعیب کو بھی حوالات میں بند کرکے زبردستی صلح کے لیے دباؤ ڈالنے کا انکشاف ہوا ہے جبکہ صلح میں ناکامی کے بعد کیس کا رخ موڑ کر ملزم محمود شبیر کو بچا دیا گیا ہے حالانکہ ملزم محمود شبیر کو بیوہ نسرین بی بی اور اس کے بیٹوں نے نیم برہنہ حالت میں بیٹی )س( کے کمرے سے پکڑا تھا متاثرہ خاتون کی درخواست کے باوجود ملزم کو گرفتار کرکے میڈیکل کرانے کے بجائے مجرمانہ ملی بھگت سے پولیس نے وقوعہ تبدیل کرکے ملزم کو بچا لیا اور بھاری نذرانے کے عوض معمولی قلندرا کی کاروائی کرکے ملزم کو گھر میں کام کرنے والا مزدور ظاہر کرکے بچا لیا گیا بیوہ بوڑھی ماں پولیس کو تحفظ کے لیے دہائی دیتی رہی لیکن اندھے قانون نے نوٹوں کی چمک کے باعث دیکھنا گوارا نہیں کیا حیران کن امر یہ بھی ہے کہ ملزم محمود شبیر کو بیوہ بوڑھی خاتون کے گھر سے نیم برہنہ حالت میں پکڑنے کی ویڈیو بطور ثبوت موجود تھی لیکن پولیس نے اُلٹا ویڈیو بنانے والے بیوہ نسرین بی بی کے بیٹے شعیب کا یہ جُرم قرار دے کر حوالات بند کر دیا جبکہ مبینہ زانیہ لڑکی س اور مبینہ زانی ملزم محمود شبیر کو کھلی چھٹی دی رکھی جنہوں نے جرم کیا وہ آزاد گھومتے رہے جنہوں نے جٌرم کی نشاندہی کی انہیں ہی ملزم بنا دیا گیا رات ساڑھے گیارہ بجے مدعیہ بیوہ بوڑھی ماں نسرین بی بی کو زدوکوب کرکے چھوڑ دیا گیا جبکہ مبینہ زانیہ لڑکی س کو بھی چھوڑ دیا گیا لیکن اس کے بے قصور بھائی اور مبینہ زانی محمود شبیر کو حوالات بند کر دیا گیا جہاں سے صبح انہیں مجسٹریٹ/اسسٹنٹ کمشنر عدالت کے سامنے پیش کرکے کیس کا رخ ہی موڑ دیا گیا اور یہ وقوعہ ظاہر کیا گیا کہ ملزم محمود شبیر مدعیہ کے گھر مزدوری کر رہا تھا اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اتنی رات گئے کونسی مزدوری ہو رہی تھی؟ متعلقہ تھانہ نے دانستہ اصل حقائق مسخ کیے اور خود ساختہ وقوعہ بنا کر ملزم کو فائدہ پہنچایا جبکہ فریادی کی داد رسی کے بجائے تذلیل کی جاتی رہی۔تھانہ صدر بیرونی کے ایس ایچ او راجہ اعزاز نے موقف دیتے ہوئے کہا کہ واقعہ خاتون اور اسکی والدہ اور بھائی کے مابین لڑائی جھگڑے اور ذاتی رنجش کا ہے، صدر بیرونی پولیس نے تمام معاملہ کی دریافت عمل میں لائی اور حسب ضابطہ دونوں فریقین کے خلاف انسدادی کاروائی کرتے ہوئے خاتون،اسکی والدہ،بھائی اور ایک شہری کو پابند عدالت کیا گیا ہے کسی بھی قانون شکنی پر سخت کاروائی کی جائے گی۔اب دیکھنا یہ ہو گا کہ متعلقہ ایس پی،ایس ایس پی آپریشن،سی پی او راولپنڈی بیوہ بوڑھی ماں کی داد رسی کرتے ہیں یا متعلقہ تھانہ کے خود ساختہ وقوعہ پر یقین کرکے معاملہ پر مٹی ڈالتے ہیں تاہم متاثرہ بیوہ نے پولیس کی کارکردگی سے مایوس ہو کر وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز سے نوٹس لے کر انصاف دینے کا مطالبہ کیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں