چاچا کرکٹ کی دکھی کہانی سہیل خاور کی زبانی

چاچا کرکٹ

دوبئی (سہیل خاور)پوری دنیا میں پاکستان کا پرچم لہرا کر پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگا کر پہچان بنانے والے صوفی عبد الجلیل عرف چاچا کرکٹ، ایسی شخصیت ہیں جنہیں کرکٹ شائقین کبھی فراموش نہیں کر سکتے۔ اسٹیڈیم ، ایشیا کا ہو یا یورپ، یواےای ھو کا یا انڈیا کا ھو جب بھی پاکستان کی کرکٹ ٹیم میدان میں اتری، چاچا کرکٹ سبز ہلالی پرچم کے ساتھ سب سے آگے نظر آئے۔ ان کے پرجوش نعروں اور منفرد انداز نے انہیں دنیا بھر میں پاکستانی کرکٹ کا غیر سرکاری سفیر بنا دیا۔

لیکن زندگی کی حقیقت ہمیشہ اسٹیڈیم کی روشنیوں جیسی نہیں بظاہر جب ہم چاچا کرکٹ کو دنیا بھر کے کرکٹ اسٹیڈیمز میں سبز ہلالی پرچم لہراتے اور پُرجوش نعروں کے ساتھ پاکستان کا نام بلند کرتے دیکھتے ہیں تو یہی گمان ہوتا ہے کہ شاید وہ ایک خوشحال اور پر تعیش زندگی گزار رہے ہوں گے۔ کیمروں کی روشنی، شائقین کی توجہ اور عالمی شہرت — سب کچھ ایک کامیاب زندگی کی تصویر پیش کرتا ہے۔ خلیج کی سخت گرمی مزدوری کی تھکن کے باوجود یہ کرکٹ کے گراؤنڈ میں نظر آیا۔ 500 سے زائد عالمی کرکٹ میچوں میں پاکستان کا پرچم بلند کیا میری چاچا کرکٹ سے پہلی ملاقات 35 سال قبل ابو ظہبی میں ھوئی میں نے ھی چاچا کرکٹ کا پہلا انٹرویو روزنامہ جنگ کے لئے کیا پہلے چاچا کرکٹ یواےای کے گراؤنڈز میں پاکستان کا پرچم بلند کرتا تھا شارجہ کرکٹ گراونڈ سے نعرے لگانے کا اغاز کیا اور خواھش رکھتا تھا کہ پوری دنیا میں پاکستان کا پرچم بلند کرے میں نے اس وقت کے وزیر اطلاعات و نشریات مشاھد حسین صاحب سے سفارت خانہ پاکستان ابو ظہبی میں درخواست کی کہ چاچا کرکٹ پاکستان کا پرچم پوری دنیا میں لہرانا چاھتا ھے اسے ویزہ دلوایا جائے مشاھد حسین نے سفیر پاکستان سے کہہ کر پہلا غیر ملکی دورہ بنگلہ دیش کے لیے ویزہ لگوا کر دیا اس کے بعد پاکستان کرکٹ بورڈ نے ماھانہ وظیفہ بھی مقرر کر دیا لیکن ٹکٹ اور رھائش کا بندو بست چاچا کرکٹ خود کرتا تھا جمع پونجی دوروں پر لگاتا رہا پاکستان کا پرچم بلند کرتا رھا لیکن اپنا ذاتی گھر نہ بنا سکا

مگر حقیقت اس تصویر سے کہیں مختلف ہے۔

اصل نام صوفی عبدالجیل رکھنے والے اس عاشقِ کرکٹ و پاکستان نے اپنی زندگی کا بڑا حصہ خلیج میں محنت مزدوری کرتے ہوئے گزارا۔ وہ ابو ظہبی میں بلدیہ کے ادارے سے وابستہ رہے، سخت گرمی اور کڑی مشقت کے دن جھیلے، اور پھر چھٹیوں یا مواقع ملتے ہی پاکستان کے جھنڈے کے ساتھ میدانوں میں جا پہنچا قوم کے لیے جوش و جذبہ دکھانے والا یہ شخص اپنی ذاتی زندگی میں مسلسل جدوجہد کا شکار رہا۔

عمر کے اس حصے میں جب انسان کو سکون اور آرام کی ضرورت ہوتی ہے، چچا کرکٹ آج بھی کرائے کے مکانوں کے درمیان دربدر ھے — کبھی ایک گھر، کبھی دوسرا۔ ایک ایسا شخص جو دنیا میں پاکستان کا چہرہ سمجھا جاتا ہے، خود اپنی چھت سے محروم رہا۔ پیسے کما کما کر گھر والوں کو بھیجتا رھا

گزشتہ روز ہمارے محترم اور سینئر صحافی دوست طاہر منیر طاہر نے چاچا کرکٹ کے بارے میں بتایا جو دل کو چیر کر رکھ دیتا ہے۔ تقریباً ڈیڑھ سال قبل طاھر منیر طاھر اور سیالکوٹ کے معروف میڈیا پرسن عبدالشکور مرزا کے ہمراہ چاچا کرکٹ کے گھر سیالکوٹ ان کی دعوت پر گئے۔ وہاں کی سادہ اور کسمپرسی کی حالت دیکھ کر ان کے دل پر گہرا اثر ہوا۔ ایک لمحے کو یوں لگا جیسے قوم کا پرچم تھامنے والے ہاتھ خود بے سہارا ہیں۔ دو کمروں کا بوسیدہ کرائے کا گھر اور درجن سے زیادہ افراد خانہ طاھر منیر طاھر نے جیسے بتایا وہ بہت درد ناک ھے
طاھر منیر طاھر نے
اسی دن طے پایا کہ چاچا کرکٹ کے لیے کچھ نہ کچھ ضرور کیا جائے گا۔ چنانچہ عبدالشکور مرزا صاحب نے ن مخیر حضرات سے رابطے کر کے ان کے لیے دس مرلے زمین خالد وسیم ایڈووکیٹ نے دی ھے مزید یہ کہ طاہر منیر طاہر نے اپنی جانب سے ایک لاکھ روپے بھی بھیجے تاکہ وہ اپنے گھر کی تعمیر کا آغاز کر سکیں۔

یہ صرف مالی مدد نہیں، بلکہ ایک اعتراف ہے کہ جو لوگ قوم کا نام بلند کرتے ہیں، وہ ہماری توجہ اور قدر کے مستحق ہیں۔

چاچا کرکٹ کی زندگی ہمیں یہ احساس دلاتی ہے کہ شہرت ہمیشہ آسائش نہیں لاتی۔ بعض اوقات سب سے اونچے نعرہ لگانے والا دل ہی سب سے زیادہ خاموش دکھ سہہ رہا ہوتا ہے۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے قومی جذبے کی علامتوں کو صرف نعروں تک محدود نہ رکھیں، بلکہ ان کے لیے عملی طور پر بھی آسانیاں پیدا کریں۔ کیونکہ جو شخص ساری دنیا پاکستان کا پرچم بلند کرے، اسے کم از کم اپنی چھت تو میسر ہونی چاہیے۔۔

ایک دوست کی محبت کا اظہار اس بات کی علامت بھی ہے کہ معاشرے میں ابھی بھی ایسے لوگ موجود ہیں جو اپنے محسنوں اور نمائندہ شخصیات کو تنہا نہیں چھوڑتے۔

چا چا کرکٹ ہمیں یہ سبق دیتا ھے کہ اصل محبت مفاد کی محتاج نہیں ہوتی۔ وہ نہ کسی عہدے کے طالب رہے، نہ کسی انعام کے۔ انہوں نے صرف اپنے وطن کے نام کو سربلند کرنے کو اپنی زندگی کا مقصد بنایا۔

ایسی شخصیات قوم کا اثاثہ ہوتی ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنے قومی ہیروز کو صرف نعروں تک محدود نہ رکھیں بلکہ عملی طور پر بھی ان کی قدر کریں۔ کیونکہ جو لوگ دنیا بھر میں پاکستان کا پرچم بلند کرتے ہیں، وہ دراصل ہمارے اجتماعی وقار کے محافظ ہوتے ہیں ھمیں ایسے لوگوں کو صرف اسٹیڈیم کی رونق سمجھ کر نہیں بھول جانا چاھیے بلکہ ان کی زندگی کے عملی مسائل کو بھی سمجھنا چاہیے جو ھاتھ پوری دنیا میں پاکستان کا پرچم بلند کرے وہ ھاتھ کمزور نہیں مضبوط ھونا چاھیے حکومت پاکستان سیالکوٹ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری اور کرکٹ بورڈ کو بھی ایسی شخصیت کے لئے آسانیاں پیدا کرنے میں مدد گار ثابت ھونا چاھیے صوفی عبد الجلیل کا فون نمبر۔ 00923006139537 پر رابطہ کر سکتے ھیں

اپنا تبصرہ بھیجیں