غریب عوام کے پیسے سے خواہشوں کی تکمیل

عوامی پیسے پر پرواز؟
پنجاب حکومت کا 10 نشستوں والا لگژری جیٹ زیرِ سوال
رانا تصدق حسین
لاہور: بڑھتے ہوئے معاشی دباؤ، کفایت شعاری کے اعلانات اور ترقیاتی فنڈز میں ممکنہ کٹوتیوں کے تناظر میں حکومتِ پنجاب کی جانب سے مبینہ طور پر 10 نشستوں پر مشتمل ایک لگژری طیارے کے حصول اور استعمال پر سنگین سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
دستیاب اطلاعات کے مطابق:
طیارہ ویٹ لیز (Wet Lease) کے تحت حاصل کیا گیا ہے، جس میں عملہ، مرمت و دیکھ بھال اور انشورنس لیز فراہم کرنے والی کمپنی مہیا کرتی ہے۔
فی پرواز گھنٹہ ایندھن کی لاگت تقریباً 28 ہزار امریکی ڈالر بتائی جا رہی ہے۔
فی پرواز گھنٹہ مینٹیننس لاگت تقریباً 5 ہزار امریکی ڈالر ہے۔
مجموعی لیز لاگت تقریباً 50 ملین امریکی ڈالر بتائی جا رہی ہے۔
اگر یہ اعداد و شمار درست ہیں تو یہ صوبائی خزانے پر غیر معمولی مالی بوجھ کی عکاسی کرتے ہیں۔
ہوابازی کے عالمی معیارات کے مطابق اسی نوعیت کے بڑے کیبن اور طویل فاصلے کے بزنس جیٹس کے آپریٹنگ اخراجات بلند ہوتے ہیں، جو طیارے کی قسم، ایندھن کے استعمال، عملے کی تشکیل اور پرواز کے راستوں پر منحصر ہوتے ہیں۔ تاہم صرف ایندھن کی مد میں 28 ہزار ڈالر فی گھنٹہ خرچ ہونا اسے مہنگے ترین ایگزیکٹو طیاروں میں شمار کرتا ہے۔
وہ بنیادی سوالات جن کے جواب ناگزیر ہیں
1۔ خریداری میں شفافیت
کیا طیارہ کھلے اور مسابقتی ٹینڈر کے ذریعے حاصل کیا گیا؟
کیا صوبائی کابینہ اور محکمہ خزانہ سے مکمل مالی اثرات کی تفصیل کے ساتھ منظوری لی گئی؟
2۔ لاگت اور فائدے کا تجزیہ
کیا چارٹر پر طیارہ لینے اور مستقل لگژری جیٹ رکھنے کے درمیان تقابلی جائزہ لیا گیا؟
سالانہ متوقع استعمال کیا ہے اور کیا وہ اس بھاری لاگت کا جواز فراہم کرتا ہے؟
3۔ عملی ضرورت
کون سی سرکاری ضروریات اس قدر مہنگے فضائی اثاثے کی متقاضی ہیں؟
طیارہ سرکاری فرائض کے لیے کتنی بار اور دیگر سفری مقاصد کے لیے کتنی بار استعمال ہوتا ہے؟
4۔ عوامی احتساب
جب صحت، تعلیم اور انفراسٹرکچر کے شعبے مالی دباؤ میں ہوں، کیا یہ اخراجات عوامی ترجیحات سے ہم آہنگ ہیں؟
مالیاتی پس منظر
پنجاب کو درپیش اہم چیلنجز میں شامل ہیں:
مالیاتی نظم و ضبط کے تحت سخت بجٹ پابندیاں
بڑھتی ہوئی قرضوں کی ادائیگیاں
صحت، تعلیم اور بنیادی ڈھانچے میں بڑھتی ہوئی ترقیاتی ضروریات
ایسے حالات میں 50 ملین ڈالر کی لیز اور فی گھنٹہ دسیوں ہزار ڈالر کے ممکنہ اخراجات ترجیحات کے حوالے سے سنجیدہ سوالات کو جنم دیتے ہیں۔
تقابلی منظرنامہ
دنیا کے بیشتر ممالک میں حکومتیں عموماً:
فوج یا ریاستی اداروں کے زیرِ انتظام سرکاری طیاروں پر انحصار کرتی ہیں،
محدود سرکاری فضائی بیڑا رکھتی ہیں، یا
ضرورت کے مطابق چارٹر انتظامات اختیار کرتی ہیں تاکہ لاگت میں بچت ہو۔
کسی مہنگے ویٹ لیز لگژری جیٹ کو برقرار رکھنے کا جواز اسی وقت ممکن ہے جب اس کے استعمال کے اعداد و شمار شفاف ہوں اور حکومتی ضرورت واضح طور پر ثابت کی جائے۔
یہ معاملہ ہوا بازی کا نہیں بلکہ احتساب کا ہے۔
اگر مذکورہ اعداد و شمار درست ہیں تو حکومتِ پنجاب پر لازم ہے کہ وہ عوام کے سامنے مکمل تفصیلات پیش کرے، جن میں شامل ہوں:
معاہدے کی مجموعی مالیت
طیارے کی قسم اور تکنیکی خصوصیات
سالانہ آپریٹنگ تخمینہ
مالیاتی احتیاط کے اصولوں کے تحت اس کی واضح توجیہ
جب تک مکمل شفافیت یقینی نہیں بنائی جاتی، عوامی تاثر یہی رہے گا کہ ایک لگژری جیٹ بلندیوں پر پرواز کر رہا ہے جبکہ عام شہری معاشی دباؤ کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں۔