ایندھن کی چوری اور جعلی ملازمین سکینڈل

بڑا اسکینڈل بے نقاب:
ایندھن کی چوری اور جعلی ملازمین
سی ڈی اے کے سالڈ ویسٹ ونگ میں تحقیقات کا آغاز

رانا تصدق حسین

اسلام آباد – کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کے سالڈ ویسٹ مینجمنٹ ونگ میں سنگین مالی بے ضابطگیوں کے الزامات سامنے آئے ہیں، جنہوں نے وفاقی دارالحکومت کی بلدیاتی انتظامیہ میں شفافیت اور احتساب کے نظام پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

ابتدائی شواہد کے مطابق آپریشنل گاڑیوں کے ایندھن کے استعمال میں مشکوک رجحانات سامنے آئے ہیں، جہاں سرکاری ریکارڈ میں جاری کردہ فیول اور فیلڈ میں مشینری کی عملی تعیناتی کے درمیان نمایاں فرق پایا گیا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ لاگ بکس، فیول سلپس اور یومیہ کارکردگی رپورٹس میں تضادات پائے گئے ہیں، جو سرکاری وسائل کے ممکنہ غلط استعمال کی نشاندہی کرتے ہیں۔

مزید برآں، تنخواہوں کے ریکارڈ کی جانچ پڑتال کے دوران متعدد ایسے “جعلی ملازمین” کی موجودگی کا انکشاف ہوا ہے جو بظاہر ڈیوٹی انجام دیے بغیر تنخواہیں وصول کر رہے تھے۔

یہ بے ضابطگیاں نہ صرف قومی خزانے پر ممکنہ بوجھ کی عکاسی کرتی ہیں بلکہ نگرانی اور کنٹرول کے نظام میں موجود ساختی کمزوریوں کو بھی ظاہر کرتی ہیں۔

اطلاعات کے مطابق حاضری رجسٹر اور بایومیٹرک تصدیقی ریکارڈ میں بھی عدم مطابقت سامنے آئی ہے، جس سے معاملے کی سنگینی مزید بڑھ گئی ہے۔

حکام نے ابتدائی جائزہ شروع کر دیا ہے جبکہ ذمہ داریوں کے تعین کے لیے باضابطہ انکوائری کمیٹی کی تشکیل پر غور جاری ہے۔

اگر الزامات درست ثابت ہوئے تو یہ معاملہ اسلام آباد کے بلدیاتی سروس ڈھانچے میں ایک بڑی انتظامی غفلت کے طور پر سامنے آ سکتا ہے۔

عوامی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ معاملے کی غیر جانبدار اور شفاف تحقیقات کی جائیں، حقائق کو منظر عام پر لایا جائے اور ذمہ دار عناصر کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لا کر احتساب کو یقینی بنایا جائے تاکہ عوامی اعتماد بحال کیا جا

اپنا تبصرہ بھیجیں