گوجرانوالہ پولیس کی اصل شکل بے نقاب

گوجرانوالہ: 118 تھانوں میں ویڈیو مانیٹرنگ، پولیس کی اصل شکل بے نقاب

آلِ علی

گوجرانوالہ: آر پی او گوجرانوالہ خرم شہزاد وڑائچ نے گوجرانوالہ کے تمام 118 تھانوں میں ویڈیو مانیٹرنگ کا عمل مکمل کر دیا ہے۔ خود روزانہ تین سے شام پانچ بجے تک براہِ راست کیمروں کے ذریعے تھانوں کی نگرانی کرتے ہیں اور بعض سائلین سے بات بھی کرتے ہیں۔

ذرائع کے مطابق، تھانوں میں وردی نہ پہننے پر ایک ایس ایچ او کو شوکاز نوٹس جاری کیا گیا اور کئی ٹاوٹوں کو حوالات میں بند کروا دیا گیا ہے۔ تمام محرروں کے کمروں میں بھی کیمرے نصب کر دیے گئے ہیں۔

آر پی او خرم شہزاد وڑائچ نے جعلی اور بے بنیاد منشیات کے مقدمات میں ملوث پولیس اہلکاروں کی تحقیقات بھی خود مانیٹر کیں۔

ان تحقیقات میں یہ انکشاف ہوا کہ صحافی رانا تصدق حسین کے معصوم تعلیم یافتہ بیٹوں کے خلاف جعلی مقدمات درج کیے گئے، جبکہ مسلح ڈاکو ان کے آبائی گھر میں گھس کر زیورات چرا گئے اور دو بیٹوں کو اندھا کر کے اغوا کر لیا۔ پڑوسیوں اور محلے میں اندھادھند فائرنگ کی گئی تاکہ خوف و ہراس پیدا ہو۔

CCTV کیمروں میں یہ تمام جرائم واضح طور پر ریکارڈ ہیں، جس سے پولیس اہلکاروں کی اصل رویت اور جرائم میں ملوث ہونے کے شواہد سامنے آئے ہیں۔

خواتین اور بچوں کے ساتھ کیے گئے مظالم نے بھی پولیس کے رویے کا پردہ فاش کر دیا ہے۔

Inماہرین کے مطابق، اب وزیراعلیٰ مریم نواز شریف اور چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ نیلم کے تعاون سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مکمل حمایت ضروری ہے تاکہ پولیس میں چھپے مجرموں کو بے نقاب اور جرائم کا خاتمہ ممکن بنایا جا سکے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں