پنجاب پولیس کی پہلی مرتبہ ہوشربا انکشافات

پنجاب پولیس بحران کا شکار:
- دو سال میں 2 لاکھ سے زائد جرمانے، اصل مجرم اب بھی دسترس سے باہر
رانا تصدق حسین
لاہور – پنجاب پولیس میں جاری اصلاحات کی افادیت پر سنجیدہ سوالات اٹھاتے ہوئے ایک حیران کن ریکارڈ سامنے آیا ہے۔
محکمہ کی رپورٹ کے مطابق، پنجاب کی پولیس فورس کے اہلکاروں – کانسٹیبل سے لے کر ڈی ایس پیز تک – کو گزشتہ دو سالوں میں مجموعی طور پر 219,460 بار سزا دی گئی۔
2024 میں 111,821 اہلکاروں کو مختلف شکایات میں قصوروار قرار پانے پر سزا دی گئی۔
2025 میں یہ تعداد 107,639 تھی۔
سب سے زیادہ سزا کانسٹیبلز کو دی گئی جن کی تعداد 147,384 تھی، جبکہ ڈی ایس پیز کو سب سے کم جرمانے بھگتنے پڑے۔
چیف منسٹر مریم نواز نے اس عمل کو تیز کرنے کی ہدایت دی ہے، جس سے فورس میں ڈسپلن اور دیانت داری کی بحالی کے لیے واضح اشارہ ملتا ہے۔
سسٹمک گڑبڑ ابھی بھی قائم ہے
ان سزاؤں کے باوجود، ہر دوسرے دن پولیس کے اہلکاروں کی ملوث خبروں کا سلسلہ جاری ہے:
غیر قانونی قتل
بھتہ خوری کے دھندے
اغواء اور غیر قانونی حراست
نوجوانوں کو مستقل معذوری تک پہنچانے والے تشدد
ذاتی پسند و ناپسند یا انتقام پر مبنی جعلی مقدمات کا اندراج
ماہرین کا کہنا ہے کہ معمولی خلاف ورزیوں پر سزائیں دینا گہرے اثرات والے مسائل کا حل نہیں ہے۔
جب تک اصل “کالے بھیڑیں” – وہ اہلکار جو متعدد سنگین جرائم میں پہلے سے نشاندہی شدہ ہیں – فورس سے نکالے نہیں جائیں گے، اصلاحاتی اقدامات ناکام رہیں گے اور قانون کے مطابق شہری محفوظ نہیں رہیں گے۔
خبردار!
پنجاب پولیس میں اصلاحات صرف تب کامیاب ہوں گی جب احتساب اعلیٰ سطح تک پہنچے اور سب سے خطرناک مجرم بغیر تاخیر فورس سے نکالے جائیں۔
پولیس میں جو پیشہ ور قاتل
قبضہ مافیا
منشیات فروش
ڈکیتیوں میں ملوث
اغواء برائے تاوان
لوگوں کے گھروں میں ڈکیتیاں کرنا
وزیر اعلی پنجاب مریم نواز شریف سے سول سوسائٹی کے سوالات ہیں
پولیس میں جو دہشت گرد ہیں کب گرفتار کرے گی