ایک اور جان گئی

گجرات میں ایک جان کا ضیاع: کیا وزیرِاعلیٰ اور آئی جی پنجاب انصاف فراہم کریں گے؟
رانا تصدق حسین
گجرات: گجرات میں 60 سالہ دیہاڑی دار مزدور طاہر بیگ کی المناک موت نے عوامی ضمیر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے اور فیلڈ انفورسمنٹ میں اختیارات کے مبینہ ناجائز استعمال اور سخت رویّے کی ثقافت پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
عینی شاہدین کے مطابق طاہر بیگ کو دن بھر کی مشقت کے بعد ایک چیکنگ آپریشن کے دوران روکا گیا اور اُن پر دو ہزار روپے کا چالان عائد کیا گیا۔
اطلاعات کے مطابق بزرگ مزدور نے اہلکاروں سے التجا کی کہ اُس کے پاس رقم موجود نہیں اور اُس کے بچے گھر پر کھانے کے منتظر ہیں۔
چند لمحوں میں تلخ جملوں کے تبادلے کے بعد وہ شدید ذہنی و جسمانی دباؤ کی حالت میں زمین پر گر پڑے۔
موقع پر موجود افراد کا دعویٰ ہے کہ ابتدا میں اُن کی حالت کو سنجیدگی سے نہیں لیا گیا، اور وہ کچھ ہی دیر بعد جان کی بازی ہار گئے۔
اگر یہ بیانات شفاف، غیر جانبدار اور آزادانہ تحقیقات میں درست ثابت ہوتے ہیں تو یہ معاملہ محض معمول کی کارروائی نہیں رہتا بلکہ فوجداری ذمہ داری، اخلاقی جوابدہی اور نظامی ناکامی کا سوال بن جاتا ہے۔
یہ واقعہ اب براہِ راست وزیرِاعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف اور انسپکٹر جنرل پنجاب کے لیے ایک کڑا امتحان ہے۔
عوام درج ذیل اقدامات کی توقع رکھتے ہیں:
تحقیقات مکمل ہونے تک متعلقہ اہلکاروں کی فوری معطلی۔
اگر غفلت، بدسلوکی یا اختیارات کے ناجائز استعمال کا ثبوت ملے تو فوجداری مقدمے کا اندراج۔
اعلیٰ سطح کی نگرانی میں آزاد، شفاف اور مقررہ مدت میں مکمل ہونے والی تحقیقات۔
تحقیقاتی نتائج کو عوام کے سامنے لانے کا واضح اور بروقت اعلان۔
سرکاری اہلکار ریاست کے خادم ہوتے ہیں، شہریوں کے مالک نہیں۔
اختیار اگر ہمدردی سے عاری ہو تو جبر بن جاتا ہے۔
نفاذ اگر تناسب اور انسانیت سے محروم ہو تو ناانصافی میں تبدیل ہو جاتا ہے۔
اگر ایک غریب مزدور محض ٹریفک چالان کے معاملے پر جان سے ہاتھ دھو بیٹھے تو یہ معاملہ انتظامی نہیں بلکہ آئینی نوعیت اختیار کر لیتا ہے۔
زندگی اور انسانی وقار کا حق ناقابلِ تنسیخ ہے۔
وزیرِاعلیٰ کو چاہیے کہ وردی کے سائے میں ہونے والی کسی بھی زیادتی کے خلاف زیرو ٹالرنس کا عملی ثبوت دیں۔
انسپکٹر جنرل پنجاب کو یقینی بنانا ہوگا کہ پولیسنگ پیشہ ورانہ مہارت، تحمل، قانون کی بالادستی اور انسانی وقار کے احترام کی عکاس ہو۔
فوری اصلاحات ناگزیر ہیں:
باڈی کیمرہ پالیسی کا مؤثر نفاذ، لازمی طبی امداد کے فوری اور تحریری پروٹوکول، اور بدسلوکی یا اختیارات کے ناجائز استعمال پر سخت اور مثال بننے والا احتساب
یہ سب اقدامات کاغذی دعوؤں سے نکل کر عملی سطح پر نظر آنے چاہئیں۔
طاہر بیگ کی موت ایک اور فراموش کر دی جانے والی خبر نہیں بننی چاہیے۔
پنجاب کے عوام دیکھ رہے ہیں۔
انصاف میں تاخیر بداعتمادی کو مزید گہرا کرے گی،
جبکہ بروقت، شفاف اور فیصلہ کن اقدام حکمرانی اور قانون کی بالادستی پر عوام کا اعتماد بحال کر سکتا ہے۔