سرکاری گاڑیوں کا کمرشل استعمال بھی شروع

وفاقی گاڑی کے مبینہ غلط استعمال کا انکشاف — کیا نظام جواب دے گا؟
عوام کی امیدیں اعلیٰ قیادت سے وابستہ — مگر انتظامی سطح پر جواب دہی کہاں ہے؟
رانا تصدق حسین
اسلام آباد – وفاقی حکومت کی ملکیت ایک ٹویوٹا ہائی ایس (نمبر: جی ایف-۵۷۹) کے مبینہ طور پر راولپنڈی تا گوجرانوالہ روٹ پر بطور کمرشل مسافر گاڑی چلنے کے انکشاف نے نہ صرف عوامی غم و غصے کو جنم دیا ہے بلکہ ایک سنجیدہ ادارہ جاتی سوال بھی کھڑا کر دیا ہے:
اگر قیادت سنجیدہ ہے تو نچلی سطح پر سرکاری اثاثوں کا غلط استعمال کیوں جاری ہے؟
عوامی رائے میں کوئی ابہام نہیں۔
شہریوں کی توقعات جنرل سید عاصم منیر، محسن نقوی اور مریم نواز شریف سے وابستہ ہیں۔ معاشرے کے مختلف طبقات میں یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ اعلیٰ قیادت نظم و ضبط، شفافیت اور بہتر طرزِ حکمرانی کے قیام کے لیے کوشاں ہے۔
مگر سرکاری وسائل کے مبینہ غلط استعمال کے بار بار سامنے آنے والے واقعات ایک تشویشناک خلا کی نشاندہی کرتے ہیں۔
قیادت اور عملدرآمد کے درمیان خلا
پالیسیاں مضبوط ہو سکتی ہیں۔
نیت مخلص ہو سکتی ہے۔
ہدایات جاری کی جا سکتی ہیں۔
لیکن زمینی حقائق مختلف کہانی سناتے ہیں۔
وفاقی ملکیت کو مبینہ طور پر نجی کمرشل سرگرمیوں میں استعمال کیا جا رہا ہے۔
نگرانی کا نظام غیر مؤثر دکھائی دیتا ہے۔
داخلی کنٹرول کمزور محسوس ہوتے ہیں۔
احتسابی ادارے خاموش نظر آتے ہیں۔
اگر ایک وفاقی رجسٹرڈ گاڑی دن دہاڑے بطور نجی کوچ چل سکتی ہے، تو سوال قیادت کی نیت کا نہیں بلکہ ادارہ جاتی عملدرآمد اور نگرانی کی مؤثریت کا ہے۔
کیا انسدادِ بدعنوانی کے ادارے فعال ہیں؟
بین الاقوامی اداروں کی رپورٹس، بشمول ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی مشاہداتی رپورٹس، اور ملک کے احتسابی ادارے جیسے قومی احتساب بیورو اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ موجود تو ہیں، مگر واضح بے ضابطگیوں پر عملی ردعمل کیوں نظر نہیں آتا؟
دستاویزی شواہد کے باوجود خاموشی عوامی بے چینی میں اضافہ کرتی ہے۔
قانون کی موجودگی اور اس پر عملدرآمد دو مختلف چیزیں ہیں۔ اصل سوال مؤثر نفاذ کا ہے۔
بنیادی سوالات
اگر اعلیٰ قیادت اصلاحات کے لیے سرگرم ہے تو پھر:
نچلی سطح پر عملدرآمد میں رکاوٹ کون ڈال رہا ہے؟
معمول کی جانچ پڑتال کیوں ناکام ہو رہی ہے؟
سرکاری گاڑیوں کی ڈیجیٹل نگرانی کا نظام کیوں فعال نہیں؟
متعلقہ افسران کو ذاتی طور پر جواب دہ کیوں نہیں بنایا جاتا؟
اصلاحات جزوی عملدرآمد سے کامیاب نہیں ہو سکتیں۔
گورننس صرف بیانات سے مضبوط نہیں ہوتی۔
عوام کا اعتماد قومی قیادت پر برقرار ہے، مگر انتظامی ڈھانچے کی نچلی پرتوں پر اعتماد بتدریج کم ہو رہا ہے۔
ساختی احتساب کا وقت
ایک گاڑی کا مبینہ غلط استعمال محض علامت ہے۔ اصل مسئلہ نظامی کمزوری اور نگرانی کے فقدان کا ہے۔
اعتماد کی بحالی کے لیے ضروری ہے کہ:
ملکیت اور تعیناتی کا فوری ریکارڈ جانچا جائے۔
ذمہ داری بلا تاخیر متعین کی جائے۔
متعلقہ محکمے کے نگرانی کے نظام کا آزادانہ جائزہ لیا جائے۔
تحقیقاتی نتائج عوام کے سامنے پیش کیے جائیں۔
قیادت سمت کا تعین کرتی ہے۔
ادارے عملدرآمد کرتے ہیں۔
احتساب کو نظر بھی آنا چاہیے اور محسوس بھی ہونا چاہیے۔
بصورتِ دیگر اصلاحات کی کہانیاں رسمی بیانات تک محدود رہ جائیں گی، اور حقیقی تبدیلی کا خواب ادھورا ہی رہے گا۔