خاتون صحافی کے خلاف جعلی مغدمہ ریڈ لاین عبور

کیا ریڈ لائن عبور ہو گئی؟ سابق خاتون سیکرٹری پریس کلب کے خلاف جعلی اور من گھڑت مقدمہ درج

آلِ علی

راولپنڈی: بظاہر فوجداری قانون کے غلط استعمال کی ایک تشویشناک مثال سامنے آئی ہے، جہاں ایک خاتون صحافی کو ہراساں اور دباؤ میں لانے کے لیے سابق خاتون سیکرٹری پریس کلب کے خلاف پولیس اسٹیشن سول لائنز، راولپنڈی میں ایک جعلی، بے بنیاد اور من گھڑت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق شکایت نمبر 160/26 مورخہ 07-02-2026 کو درج کی گئی، جسے مبینہ طور پر تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 406 (مجرمانہ خیانت) کے تحت کارروائی میں تبدیل کیا گیا اور پولیس اسٹیشن سول لائنز، راولپنڈی میں کارروائی کے لیے پراسیس کیا گیا۔
تاہم شکایت کنندہ کا مؤقف قانونی اور حقائق کی سطح پر سنگین تضادات کا حامل دکھائی دیتا ہے، جو کسی حقیقی فوجداری تنازع کے بجائے بدنیتی پر مبنی اقدام کا تاثر دیتا ہے۔
ریکارڈ کے مطابق:
شکایت 07-02-2026 کو شام 7:35 بجے درج کی گئی۔
معاملہ دفعہ 406 تعزیراتِ پاکستان کے تحت ظاہر کیا گیا۔
کارروائی رجسٹریشن/مزید ایکشن کے لیے آگے بڑھائی گئی۔
مبینہ مالی تنازع کو دستاویزی ثبوت کے بغیر بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا۔
فوجداری کارروائی سے قبل کوئی حتمی آڈٹ، انکوائری یا داخلی تصدیق مکمل نہیں کی گئی۔
پریس کلب کے معاملات سے واقف ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر کوئی تنازع موجود بھی ہے تو وہ انتظامی نوعیت کا اندرونی معاملہ ہے، جو مفاہمت اور داخلی میکانزم کے ذریعے حل کیا جا سکتا تھا۔
اس کے برعکس شکایت کنندہ نے براہِ راست فوجداری قانون کا سہارا لیا، جسے وسیع حلقوں میں دباؤ ڈالنے اور انتقامی اقدام کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
اہم سوالات اٹھ کھڑے ہوئے
پریس کلب کے اندرونی فورمز پر معاملہ کیوں نہیں اٹھایا گیا؟
غیر جانبدار مالی مفاہمت یا آڈٹ کیوں نہیں کرایا گیا؟
دفعہ 406 کے اطلاق سے قبل امانت اور بددیانتی کے لازمی عناصر کیوں ثابت نہیں کیے گئے؟
قانونی ماہرین کے مطابق دفعہ 406 تعزیراتِ پاکستان کے اطلاق کے لیے واضح طور پر “امانت کا سپرد ہونا” اور “بددیانتی سے خردبرد” کے عناصر کا ثبوت لازمی ہے، جو بادی النظر میں دستیاب ریکارڈ میں نمایاں طور پر موجود نہیں۔
ہراسانی کا ایک نیا رجحان؟
شکایت کے وقت اور طریقۂ کار سے یہ تاثر تقویت پاتا ہے کہ ایک منتخب خاتون عہدیدار کو بدنام اور دباؤ میں لانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ انتظامی اختلافات کو بغیر ابتدائی ثبوت کے فوجداری رنگ دینا اس امر کی عکاسی کرتا ہے کہ خواتین قیادت کے خلاف قانون کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کا رجحان تشویشناک حد تک بڑھ رہا ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب وزیراعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز شریف نے دوٹوک اعلان کیا تھا کہ “خواتین کے حقوق میری ریڈ لائن ہیں۔”
اب صحافتی اور سول سوسائٹی حلقوں میں ایک سادہ مگر اہم سوال گردش کر رہا ہے:
کیا یہ ریڈ لائن اس وقت بھی برقرار رہے گی جب ایک سابق خاتون عہدیدار کو مشکوک فوجداری کارروائی کے ذریعے نشانہ بنایا جا رہا ہے؟
فوری نظرثانی کا مطالبہ
متعلقہ حلقے درج ذیل مطالبات کر رہے ہیں:
شکایت کی آزادانہ اور شفاف انکوائری کرائی جائے۔
متعلقہ پولیس اہلکاروں کے کردار کا جائزہ لیا جائے کہ بغیر مکمل تصدیق کے کارروائی کیوں آگے بڑھائی گئی۔
خواتین صحافیوں کو فوجداری قوانین کے ممکنہ غلط استعمال سے تحفظ فراہم کیا جائے۔
قانون کی حرمت کا تقاضا ہے کہ فوجداری دفعات کو دباؤ اور انتقام کے ہتھیار میں تبدیل نہ ہونے دیا جائے۔ اگر الزامات واقعی من گھڑت ثابت ہوتے ہیں تو جھوٹی شکایت درج کرانے والوں کے خلاف بھی قانون کے مطابق کارروائی ہونی چاہیے۔
صحافتی برادری اور سول سوسائٹی کی نظریں اب حکومتِ پنجاب پر مرکوز ہیں۔
اگر خواتین کے حقوق واقعی ریڈ لائن ہیں، تو اسے ثابت کرنے کا یہی وقت ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں