این ایچ اے غیر قانونی ڈیپوٹیشن مافیا کے شکنجے

عدالتی احکامات کی کھلی خلاف ورزی، این ایچ اے کی خودمختاری محاصرے میں
غیرقانونی ڈیپوٹیشن مافیا کا شکنجہ مزید مضبوط، واپسی کی فہرست نے نظامی تخریب بے نقاب کر دی
رانا تصدق حسین
اسلام آباد: نیشنل ہائی وے اتھارٹی (NHA) کی ایڈمنسٹریشن ونگ/پرسنل بیورو کی ایک اندرونی دستاویز نے ادارہ جاتی قبضے، عدالتی احکامات کی صریح خلاف ورزی اور پارلیمانی طور پر دی گئی خودمختاری کے سنگین انہدام کو پوری طرح بے نقاب کر دیا ہے۔ دستاویز کے مطابق 23 ڈیپوٹیشن افسران کی ایک تفصیلی فہرست فوری طور پر ان کے اصل محکموں کو واپس بھیجنے کے لیے حتمی شکل دے دی گئی ہے
یہ اقدام اسلام آباد ہائی کورٹ (IHC) کی واضح ہدایات اور سپریم کورٹ آف پاکستان کے پابند فیصلوں کی روشنی میں کیا گیا۔
دستاویز میں اُن افسران کی نشاندہی کی گئی ہے جو قانون، سروس رولز اور عدالتی احکامات کی خلاف ورزی کرتے ہوئے غیرقانونی طور پر این ایچ اے میں تعینات ہیں، اور جن کی موجودگی نے باقاعدہ این ایچ اے افسران کی ترقیوں، تعیناتیوں اور سروس کیریئر کو مفلوج کر کے رکھ دیا ہے۔
مکمل فہرست: ڈیپوٹیشن افسران جن کی واپسی لازمی قرار
فاروق احمد (BS-19) – پاکستان آڈٹ اینڈ اکاؤنٹس سروس → آڈیٹر جنرل آف پاکستان
طارق محمود بھٹی (BS-19) – ان لینڈ ریونیو سروس → ایف بی آر
نیر رزاق (BS-19) – نیشنل ہاؤسنگ فاؤنڈیشن → وزارتِ ہاؤسنگ اینڈ ورکس
محمد عثمان چٹھہ (BS-18) – کامرس اینڈ ٹریڈ گروپ → وزارتِ تجارت
ڈاکٹر بینش نور (BS-18) – آفس مینجمنٹ گروپ → اسٹیبلشمنٹ ڈویژن
فیصل حفیظ (BS-18) – نادرا → وزارتِ داخلہ
حافظ محمد وقاص (BS-18) – وزارتِ داخلہ
مس شاہنہ خلیل (BS-18) – پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس → اسٹیبلشمنٹ ڈویژن
ڈاکٹر انیلا جاوید گوندل (BS-18) – ان لینڈ ریونیو سروس → ایف بی آر
محمد عمیر خان سدو زئی (BS-17) – انفارمیشن گروپ → وزارتِ اطلاعات
محمد سعید انور (BS-17) – نادرا → وزارتِ داخلہ
محمد طیب تنویر (BS-17) – آفس مینجمنٹ گروپ → اسٹیبلشمنٹ ڈویژن
حسین محمود (BS-17) – پی اے آر سی → وزارتِ قومی غذائی تحفظ
محمد حمید (BS-17) – وزارتِ مواصلات → وزارتِ مواصلات
حسن علی محسود (BS-16) – ویلیج ریفیوجیز ایڈمنسٹریشن → وزارتِ سیفران
ابو بکر صدیق (BS-16) – پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ → حکومتِ خیبرپختونخوا
شاہ فہد (BS-16) – نیشنل ہائی وے اینڈ موٹروے پولیس → وزارتِ مواصلات
مخدوم فرخ حسین (BS-16) – ایکسپورٹ پروسیسنگ زون اتھارٹی → وزارتِ صنعت و پیداوار
جاوید اقبال (BS-16) – وزارتِ مواصلات → وزارتِ مواصلات
احتشام علی (BS-13) – ڈیپارٹمنٹ آف کمیونیکیشن سیکیورٹی → کابینہ ڈویژن
محمد شعیب (BS-4) – وزارتِ مواصلات → وزارتِ مواصلات
محمد عرفان طارق (BS-4) – پاسکو → وزارتِ قومی غذائی تحفظ
عبدالباری (BS-1) – نیشنل ہائی وے اینڈ موٹروے پولیس → وزارتِ مواصلات
عدالتی احکامات نظرانداز، توہینِ عدالت منڈلاتی تلوار
سپریم کورٹ کے غیرمبہم فیصلوں اور اسلام آباد ہائی کورٹ کی حالیہ سخت ہدایات کے باوجود، واپسی (ری پیٹری ایشن) کا عمل دانستہ طور پر روکا جا رہا ہے—جس سے ارادی توہینِ عدالت کے سنگین خدشات جنم لے چکے ہیں۔
اس رکاوٹ کے مرکز میں غیرقانونی طور پر تعینات قائم مقام سیکرٹری مواصلات کھڑے ہیں، جن پر ماضی میں نیب کی کارروائیوں کے سائے بھی رہے ہیں، اور جن پر الزام ہے کہ وہ اپنے عہدے کا غلط استعمال کرتے ہوئے اخلاقی و مالی بدعنوانی کے ساتھ ساتھ عدالتی احکامات کی سبوتاژنگ کر رہے ہیں۔
منتخب انصاف: رشتہ دار محفوظ، قانون تماشہ
انتہائی تشویشناک امر یہ ہے کہ قائم مقام سیکرٹری مواصلات کے قریبی عزیز اور منظورِ نظر افراد کو دانستہ طور پر واپسی کی فہرست سے باہر رکھا گیا
حالانکہ عدالت نے ڈیپوٹیشن کلچر کے خاتمے اور این ایچ اے کے قانونی ڈھانچے کی بحالی کا واضح حکم دے رکھا ہے۔
قانون کے اس انتخابی اطلاق نے ریاستی سرپرستی، اختیارات کے ناجائز استعمال اور انتظامی بلیک میلنگ کے تاثر کو مزید مضبوط کیا ہے۔
این ایچ اے فنڈز کی منتقلی نیب کی خوابِ خرگوشی
اتنی ہی سنگین اطلاعات یہ بھی ہیں کہ این ایچ اے کے سڑکوں کی تعمیر و ترقی کے فنڈز کو غیر متعلقہ اور غیر مجاز مقاصد کے لیے موڑا جا رہا ہے
یہ معاملہ براہِ راست نیب کے دائرۂ اختیار میں آتا ہے۔
اس کے باوجود، کرپشن واچ ڈاگ گہری نیند میں دکھائی دیتا ہے
نگہبان کے بجائے خرگوش بن کر
حالانکہ مالی بے ضابطگیوں، تعیناتیوں کی ہیرا پھیری اور ڈیپوٹیشن افسران و بعض وزارتوں کے گٹھ جوڑ کے ٹھوس شواہد موجود ہیں۔
ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ قومی شاہراہوں کے لیے مختص اربوں روپے انتظامی عیاشیوں، غیرقانونی توسیعات اور ڈیپوٹیشن مراعات کی نذر ہو رہے ہیں
جو پبلک فنانس اور ایس او ای گورننس قوانین کی صریح خلاف ورزی ہے۔
اسٹیبلشمنٹ و مواصلات ڈویژنز کے ہاتھوں این ایچ اے کی خودمختاری نچوڑ دی گئی
اسٹیبلشمنٹ ڈویژن اور وزارتِ مواصلات پر یہ سنگین الزامات ہیں کہ انہوں نے پارلیمنٹ کی دی ہوئی خودمختاری کو منظم طریقے سے پامال کیا، جس کے نتیجے میں:
این ایچ اے کو غیرضروری ڈیپوٹیشن افسران سے بھر دیا گیا
مالی و انتظامی وسائل نچوڑ لیے گئے
باقاعدہ این ایچ اے افسران کے ترقی، تعیناتی اور سینیارٹی حقوق ختم کر دیے گئے
قومی انفراسٹرکچر ادارے کو دوسرے کیڈرز کے مسترد شدہ افسران کا ڈمپنگ گراؤنڈ بنا دیا گیا
عوامی تشویش: ایک نہایت خطرناک شگون
قانونی ماہرین اور سینئر سول سرونٹس خبردار کرتے ہیں کہ عدالتی احکامات کی مسلسل خلاف ورزی اور این ایچ اے کی خودمختاری کا خاتمہ حکمرانی اور قانون کی بالادستی
دونوں کے لیے تباہ کن مثال ہے۔
عوام اسے قانون سازی کے بجائے بیوروکریٹک جبر کے ذریعے ایک اسٹریٹجک قومی ادارے پر قبضہ تصور کر رہے ہیں۔
اگر فوری طور پر واپسی پر عمل درآمد نہ ہوا اور فنڈز کی منتقلی کی نیب انکوائری نہ کی گئی تو ذمہ داری اُن عناصر پر عائد ہو گی جو دانستہ طور پر عدالتی احکامات میں رکاوٹ بن رہے ہیں
جس کے نتائج توہینِ عدالت، احتسابی ریفرنسز اور فوجداری کارروائی کی صورت میں سامنے آ سکتے ہیں۔
قانون بول چکا۔ عدالت حکم دے چکی۔
فنڈز موڑ دیے گئے۔
کیا نیب جاگے گا یا کرپشن کا خرگوش ہی بنا رہے گا؟