پنجاب میں بڑی تبدیلی

پنجاب پولیس میں بڑی تبدیلی متوقع، جعلی مقدمات اور ماورائے عدالت کارروائیوں پر حکومت کا فیصلہ کن قدم

رانا تصدق حسین

لاہور: صوبائی حکومت کے اعلیٰ ذرائع کے مطابق انسپکٹر جنرل پولیس پنجاب ڈاکٹر عثمان انور کو عہدے سے ہٹائے جانے کا قوی امکان ہے، جبکہ پنجاب پولیس کی اعلیٰ قیادت میں بڑے پیمانے پر ردوبدل کی تیاریاں آخری مراحل میں داخل ہو چکی ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ صوبے بھر میں بے گناہ اور قانون پسند شہریوں کے خلاف جعلی مقدمات، بالخصوص من گھڑت منشیات کیسز، مبینہ پولیس مقابلوں اور حراست میں ہلاکتوں میں تشویشناک اضافے کے بعد کیا گیا ہے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی اندرونی رپورٹس اور مشاورت کی روشنی میں حکومت اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ پنجاب میں جرائم پر قابو پانے اور عوامی اعتماد بحال کرنے کے لیے پولیس قیادت میں تبدیلی ناگزیر ہو چکی ہے۔
ذرائع کے مطابق پنجاب کے نئے آئی جی کے لیے تین مضبوط نام زیر غور ہیں جن میں سی سی پی او لاہور بلال صدیق کمیانہ، ایڈیشنل آئی جی کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) وسیم سیال اور سینئر پولیس افسر راؤ عبد الکریم شامل ہیں۔ دوسری جانب ڈاکٹر عثمان انور کو آئندہ کسی وفاقی عہدے پر تعینات کیے جانے کا امکان ہے۔
اہم پیش رفت یہ ہے کہ حکومت نے کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ (CCD) اور کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (CTD) میں تعینات افسران کے سروس ریکارڈ اور پروفائلز کی آزاد اور بیرونی قانون نافذ کرنے والے و انٹیلی جنس اداروں کے ذریعے جانچ پڑتال کا اصولی فیصلہ بھی کر لیا ہے۔ اس عمل کا مقصد وردی کے پیچھے چھپے کسی بھی جرائم پیشہ عنصر کی نشاندہی اور بیخ کنی بتایا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق جعلی پولیس مقابلوں، ماورائے عدالت قتل، پولیس حراست میں اموات اور کم عمر بچوں و طلبہ کے خلاف جھوٹے اور بے بنیاد منشیات مقدمات نے حکومت کو سخت اقدام پر مجبور کر دیا ہے۔ ان واقعات پر سول سوسائٹی، وکلاء، انسانی حقوق کے حلقوں اور خود سرکاری سطح پر شدید تشویش پائی جا رہی تھی، جس کے بعد بالآخر آئی جی پنجاب کو ہٹانے کا فیصلہ کن اقدام سامنے آیا ہے۔
صوبائی حکام کا کہنا ہے کہ یہ محض ایک انتظامی تبدیلی نہیں بلکہ پولیسنگ کے پورے نظام کو درست سمت میں لانے، اختیارات کے ناجائز استعمال کو روکنے، اور ادارہ جاتی احتساب یقینی بنانے کی جامع حکمت عملی کا حصہ ہے۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ نئی قیادت اور حساس محکموں کی آزاد نگرانی سے نہ صرف جرائم پر قابو پایا جا سکے گا بلکہ قانون کی بالادستی اور عوام کا اعتماد بھی بحال ہوگا۔
ذرائع کے مطابق آئی جی پنجاب کی تبدیلی کا باضابطہ اعلان آئندہ چند دنوں میں متوقع ہے، کیونکہ اس حوالے سے صوبائی اور وفاقی سطح پر مشاورت تقریباً مکمل ہو چکی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں