جرح کے نام پر گواہوں کو حراساں

اسلام آباد( رپورٹ:،رانا مسعود حسین)
عدالت عظمیٰ نے قراردیاہے کہ جرح کے نام پر گواہوں کو ہراساں کرنا، غیر متعلقہ سوالات پوچھنا اور انہیں تضحیک کا نشانہ بنانا قطعی طور پر ناقابلِ قبول ہے، جرح کا حق نہ تو لامحدود ہے اور نہ ہی اسے بے لگام چھوڑا جا سکتا ہے، ٹرائل کورٹ غیر ضروری کارروائی ختم کرنے کا مکمل اختیار رکھتی ہے،جسٹس شاہد وحید کی سربراہی میں جسٹس شاہد بلال حسن پر مشتمل دو رکنی بنچ نے ضلع لاہور کے علاقہ میں واقع 53 کنال 3 مرلہ اراضی سے متعلق کیس کی سماعت کی تھی ،جس کا9صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جسٹس شاہد بلال حسن نے قلمبند کیا ہے ، عدالت نے قراردیاہے کہ عدالتیں گواہوں کو غیر ضروری دبائو، تضحیک اور ہراساں کیے جانے سے محفوظ رکھنے کی قانونی طور پر پابند ہیں، ٹرائل کورٹ کو یہ مکمل قانونی اختیار حاصل ہے کہ وہ غیر ضروری یا غیر متعلقہ جرح کو محدود کرے یا اسے ختم کر دے، موجودہ کیس میں مدعی بطور گواہ پیش ہوا جس پر مسلسل دو ماہ تک سات سماعتوں میں 30 صفحات پر مشتمل طویل جرح کی گئی، ٹرائل کورٹ نے مشاہدہ کیا کہ مزید جرح غیر ضروری اور ہراساں کرنے کے مترادف ہے، جس پر مدعا علیہ کا مزید جرح کا حق ختم کر دیا گیا،عدالت نے قراردیاہے کہ گواہوں کو طویل اور تھکا دینے والی جرح کے ذریعے غلطی پر مجبور کرنا انصاف کے اصولوں کے منافی ہے، فیصلے میں مزید کہا گیا کہ عدالتی ریکارڈ کی درستگی کا ہمیشہ ایک قوی قانونی مفروضہ موجود ہوتا ہے، عدالت نے یہ بھی واضح کیاہے کہ لاہور ہائی کورٹ کو سیکشن 151 سی پی سی کے تحت عدالتی کارروائی کو منظم کرنے اور اسے غلط استعمال سے روکنے کا مکمل اختیار حاصل ہے۔