مریم نواز کے مبینہ ریمارکس پر شدید عوامی رد عمل

“کیا بھکر اور لیہ کے شہری کم تر ہیں؟
وزیراعلیٰ پنجاب کے مبینہ ریمارکس پر شدید عوامی ردِعمل”
رانا تصدق حسین
بھکر / لیہ — بھکر اور لیہ کے عوام میں شدید غم و غصہ اور مایوسی پائی جا رہی ہے، جس کی وجہ وزیراعلیٰ پنجاب سے منسوب ایک مبینہ بیان ہے، جس میں یہ تاثر دیا گیا کہ بھکر اور لیہ میں انسانی جان کے ضیاع کو وہ اہمیت حاصل نہیں جو لاہور میں دی جاتی ہے
اور یہ کہا گیا کہ: “یہ بھکر یا لیہ نہیں، یہ لاہور ہے۔”
اگر یہ بیان درست سیاق و سباق میں دیا گیا ہے تو یہ محض غیر محتاط نہیں بلکہ:
آئینی مساوات کی صریح خلاف ورزی ہے،
جنوبی پنجاب کے عوام کی توہین ہے،
اور دہائیوں سے جاری نظرانداز کیے جانے کے احساس کو مزید گہرا کرتا ہے۔
یہ معاملہ کیوں سنگین ہے؟
بھکر اور لیہ بھی پنجاب کا حصہ ہیں—یہاں کے شہری بھی برابر کے پاکستانی ہیں۔
یہ علاقے پہلے ہی صحت، ایمرجنسی سہولیات، تعلیم، روزگار اور انفراسٹرکچر کی شدید کمی کا شکار ہیں۔
جغرافیہ کی بنیاد پر انسانی جان کی قدر کم یا زیادہ قرار دینا اخلاقی طور پر ناقابلِ قبول اور ریاستی سوچ کے لیے خطرناک ہے۔
عوامی ردِعمل
مقامی عوام کے مطابق اس مبینہ بیان نے ان کی اجتماعی عزتِ نفس کو مجروح کیا ہے اور یہ احساس مزید بڑھا دیا ہے کہ انہیں دوسرے درجے کا شہری سمجھا جاتا ہے۔ یہ محض سیاسی اعتراض نہیں بلکہ برابری اور احترام کی پکار ہے۔
وضاحت کا مطالبہ
بحیثیت وزیراعلیٰ پنجاب، یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ تمام اضلاع کے عوام کی نمائندگی بلا امتیاز کریں۔
لہٰذا ایک واضح اور دو ٹوک وضاحتی بیان ناگزیر ہے:
کیا واقعی یہ الفاظ اسی مفہوم میں ادا کیے گئے؟
اور اگر ایسا ہے تو کیا صوبائی قیادت یہ سمجھتی ہے کہ کچھ جانیں زیادہ قیمتی ہیں اور کچھ کم؟
حتمی مؤقف
پنجاب کو صرف لاہور کے زاویے سے نہیں چلایا جا سکتا۔ اچھی حکمرانی کی بنیاد انصاف، ہمدردی اور مساوی قدرِ حیات ہے—خاص طور پر اُن علاقوں کے لیے جو طویل عرصے سے محرومی کا شکار رہے ہیں۔
بھکر اور لیہ ناقابلِ نظرانداز نہیں۔
ان کے عوام غیر مرئی نہیں۔
اور ان کی جانیں ہرگز کم تر نہیں۔